منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

صدارتی ریفرنس،ضمیر کے مطابق بھی کوئی انحراف کرے تو ڈی سیٹ ہوگا، سپریم کورٹ

datetime 16  مئی‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے ہیں کہ انحراف سے بہتر ہے استعفیٰ دیں، اس سے سسٹم بچ جائے گا، استعفیٰ دینے والے کو عوام ووٹ دیں تو وہ دوبارہ آجائے گا، ضمیر کے مطابق بھی کوئی انحراف کرے تو ڈی سیٹ ہوگا۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے

صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی جس دوران اٹارنی جنرل اشتر اوصاف اور (ن) لیگ کے وکیل مخدوم علی خان نے التوا کی درخواست کی جس پر عداالت نے برہمی کا اظہار کیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل اور مخدوم علی خان ایک ہی فریق کے وکلا ہیں، التوا کی درخواستوں کا مطلب ہے کہ حکومت تاخیرکرنا چاہتی ہے۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے پیرکو دلائل میں معاونت کرنے کی بات خود کی تھی اور مخدوم علی خان کو بھی پیر کو دلائل کیلئے پابند کیا تھا، عدالت کے اوربھی کام ہیں، تین بینچزکے جج اس لارجربینچ کا حصہ ہیں، آرٹیکل 63 اے عوامی مفاد کا اہم ترین ایشو ہے جس کو سن کرجلد فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سپریم کورٹ آئین اورعوامی مفاد سے متعلق معاملات سننے کیلئے ہروقت تیارہے، عدالت تمام فریقین کا احترام کرتی ہے لہٰذا عدالتوں کا بھی احترام کریں۔اس دوران عدالت نے (ن) لیگ کے وکیل مخدوم علی خان کوآج ہی تحریری دلائل جمع کرانے کی ہدایت کی۔دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کی تکریم ہونی چاہیے، ایسا نہ ہوکہ پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کو ختم کردے۔اس دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہر رکن اپنی مرضی کریگا توجمہوریت کا فروغ کیسے ہوگا، کسی فرد پرفوکس کرنے کی بجائے سسٹم پرفوکس کیوں نہ کیا جائے،

آرٹیکل 63 اے کے تحت انفرادی نہیں پارٹی کا حق ہوتا ہے، کیا دس 15 ارکان سارے سسٹم کو ڈی ریل کرسکتے ہیں؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے کہ انحراف سے بہتر ہے استعفیٰ دیں، اس سے سسٹم بچ جائے گا، استعفیٰ دینے والے کو عوام ووٹ دیں تو وہ دوبارہ آجائیگا، ضمیر کے مطابق بھی کوئی انحراف کرے تو ڈی سیٹ ہوگا،

آئین ضمیر کے مطابق ووٹ دینے والے کے اقدام کو بھی قبول نہیں کرتا۔معزز جج نے کہا کہ ہمارے کندھے اتنے کمزور نہیں ہیں، ہمارے کندھے آئین پاکستان ہے، تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کا ہے، عدالت کا کام آئین کا تحفظ اور تشریح کرنا ہے، عدالت نے دیکھنا ہے کہ درخواست میں کس نوعیت کا سوال اٹھایا گیا ہے، عدالت کا پہلا سوال درخواست کے قابل سماعت ہونے کا ہے، آئین کے تحت ذمہ داری ہے کہ آئین کی تشریح کریں۔بعد ازاں عدالت نے ریفرنس پر سماعت منگل تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…