بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

جھوٹ اور غلط بیانی پاکستان کیساتھ تعلقات خراب نہیں کرسکتے عمران خان کے مسلسل الزامات پر امریکہ کا دوٹوک اعلان

datetime 11  مئی‬‮  2022 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکہ نے وزیر اعظم عمران خان کی برطرفی میں واشنگٹن کے ملوث ہونے کے ان کے الزامات کی ایک بار پھر تردید کی۔ امریکہ نے کہا کہ وہ غلط معلومات اور جھوٹ کو پاکستان کے ساتھ باہمی تعلقات کی راہ میں حائل ہونے نہیں دے گا۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کی معمول کی پریس بریفنگ میں بدھ کے روز جب پاکستان کے ایک نیوز چینل کے نامہ نگار

نے ان سے سوال کیا کہ چونکہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان اب بھی اپنی حکومت کے خاتمے کا الزام امریکہ پر لگا رہے ہیں اور امریکہ مخالف مہم جاری رکھے ہوئے ہیں تو کیا ان کی اس مہم سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر کوئی فرق پڑے گا؟نیڈ پرائس نے اس کے جواب میں کہا،ہم کسی پروپیگنڈہ، غلط اطلاعات یا افواہوں او رجھوٹ کو باہمی تعلقات کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیں گے۔ ہم پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔خیال رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے کہ امریکہ پاکستان میں کسی سیاسی جماعت کی حمایت نہیں کرتا بلکہ وہ صرف قانون کی حکمرانی کے اصولوں کی تائید کرتا ہے۔سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنی برطرفی کے بعد ایک خط دکھا کر عوام کے سامنے دعویٰ کیاتھا کہ یہ دھمکی آمیز خط انہیں امریکہ کی جانب سے موصول ہوا ہے جس میں ان کی حکومت کو ختم کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ خط پاکستان کی خود مختاری پر حملہ تھا۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان سے جب یہ پوچھا گیا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے نیویارک میں 18مئی کو مجوزہ فوڈ سکیورٹی کانفرنس میں شرکت کرنے والے پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن میں ملاقات ہوگی تو نیڈ پرائس کا کہنا تھا، فی الحال کسی دو طرفہ ملاقات کی تفصیل ان کے پاس نہیں ہے۔

نیڈ پرائس نے تاہم کہا کہ وہ یہ کہنا چاہیں گے کہ سکریٹری بلنکن اور پاکستان کے ان کے ہم منصب بلاول بھٹو زرداری کے درمیان گزشتہ ہفتے بات ہوئی ہے اور دونوں رہنماوں نے امریکہ اور پاکستان کے درمیان باہمی تعلقات کے 75برس مکمل ہونے پر وسیع بنیاد پر باہمی تعلقات کو مزید بہتر بنانے اور آگے لے جانے کے بارے میں گفتگو کی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ سکریٹری بلنکن نے افغانستان میں استحکام او ردہشت گردی سے نمٹنے کے لیے امریکہ اور پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

انہوں نے معاشی تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، ماحولیات، توانائی، صحت او رتعلیم جیسے موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس لیے یہ دراصل وسیع موضوعات پر مبنی گفتگو تھی۔پریس کانفرنس میں جب نیڈ پرائس سے پوچھا گیا کہ چونکہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ اس وقت امریکہ میں موجود ہیں تو کیا ان کی وزیر خارجہ بلنکن یا محکمہ خارجہ کے دیگر حکام سے ملاقات ہونے والی ہے؟ اس کے جواب میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا،میں آپ کو پاکستانی حکام سے رجوع کرنے کا مشورہ دوں گا تاکہ وہ آپ کو ان کے شیڈول کے بارے میں بتاسکیں۔ لیکن میں ان کی وزیر خارجہ بلنکن سے ملاقات کے بارے میں آگاہ نہیں ہوں۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…