جمعرات‬‮ ، 21 مئی‬‮‬‮ 2026 

وزیر قانون فروغ نسیم منظر عام سے غائب ہیں ، انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ ۔۔حامد میر نے دعویٰ کر دیا 

datetime 25  مارچ‬‮  2022 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی )سینئر تجزیہ کار و اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ وفاقی وزیرقانون فروغ نسیم منظر عام سے غائب ہیں ،وزیر قانون نے حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کے معاملے کو لٹکانا ، صدارتی ریفرنس لے جانا مناسب نہیں ہے۔ انکا کہنا تھا کہ آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کے چہرے ہشاش بشاش تھے

جبکہ حکومتی اراکین کے چہروں پر مایوسی پھیلی ہوئی تھی ۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کو لٹکانا اور صدارتی ریفرنس لے جانا مناسب نہیں ۔  سینئر تجزیہ کار حامد میر کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم منظر عام سے غائب ہیں۔ قبل ازیں سینئر تجزیہ کار و اینکر پرسن حامد میر نے آج کے قومی اسمبلی اجلاس پر اپنا تجزیہ دیتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی میں حکومتی اراکین کے چہروں پر مایوسی صاف ظاہر ہو رہی تھی جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے اراکین خوش نظر آرہے تھے ۔ سینئر صحافی حامد میر کا کہنا تھا کہ جس دن ووٹنگ ہو گی اس دن نتیجہ وہی ہو گا جو آج تحریک انصاف کے اراکین کے چہروں پر نظر آرہا تھا ۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے اراکین کی تعداد کافی زیادہ تھی اور خوش تھی جبکہ تحریک انصاف کے منحرف اراکین سب نہیں آئے بلکہ اراکین سرکاری بینچز پر آ کر بیٹھے ۔ دوسری جانب متحدہ اپوزیشن کے مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں 159شریک ہوئے ، تین غیر حاضر تھے ۔ تفصیلات کے مطابق متحدہ اپوزیشن کے ارکان کی تعداد 162ہے ، اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے 84ارکان ہیں اور تمام پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شریک ہوئے ، پاکستان پیپلز پارٹی کے کل ارکان کی تعداد 56ہے تاہم ایک رکن جام عبد الکریم دبئی میں ہونے کے باعث اجلاس میں شریک نہ ہوسکے ۔ متحدہ مجلس عمل کے ارکان کی کل تعداد 15پندرہ ہے تاہم جماعت اسلامی کے عبد الاکبر چترالی شریک نہیں ہوئے ۔ ذرائع کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کا ایک ، بی این پی کے چار اور انڈیپنڈنٹ دو ارکان ہیں تاہم علی وزیر جیل میں ہونے کے باعث شریک نہ ہوسکے اور اس طرح اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی میں 159 ممبران شریک تھے۔پارلیمنٹ ہاؤس میں متحدہ اپوزیشن کے اجلاس میں میں قومی اسمبلی کے اجلاس سے متعلق مشاورت کی گئی۔اجلاس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، شریک چیئرمین آصف علی زرداری، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے اختر مینگل شریک ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…