اسلام آباد ( آن لائن) اپوزیشن جماعتیں الیکشن کمیشن آف پاکستان سے پی ٹی آئی فنڈنگ کیس کا فیصلہ جلد سنانے کا مطالبہ کر دیا ۔تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز مسلم لیگ (ن)،پیپلز پارٹی ،اے این پی ،جے یو آئی اور دیگر جماعتوں کے سینئر رہنمائوں نے الیکشن کمیشن میں درخواست جمع کرائی ہے جس میں انہوں نے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس فیصلہ فوری دینے کا مطالبہ ہے ،
درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی ساکھ اور غیر جانبداری سے متعلق نہایت اہم اور سنجیدہ معاملہ ہے ،تحریک انصاف اور عمران خان کے خلاف 14 نومبر2014 سے غیر قانونی فارن فنڈنگ کا کیس زیر سماعت ہے ،سکروٹنی کمیٹی نے ایک ماہ کا کام 4 سال میں مکمل کیا ،سکروٹنی کمیٹی میں ہوشربا انکشاف ہوئے ہیں ،سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جمع کردہ شواہد پر مبنی 8 والیمز برآمد ہوئے ہیں ،الیکشن کمیشن بذات خود اس کیس کی 75 سماعتیں کر چکا ہے ،تحریک انصاف کی جانب سے 30 سے زائد بار التواء کی درخواستیں دائر کیں اور الیکشن کمیشن نے کم از کم 21 مرتبہ پی ٹی آئی کو تمام دستاویزات دینے اور اپنے غیر ملکی بینک اکائونٹس کی تفصیل جمع کرانے کا تحریری حکم جاری کر چکا ہے ،تحریک انصاف مسلسل تاخیری حربے استعمال کرتی رہے ہے جس سے واضح ہوتا ہے انہوں نے فارن فنڈنگ کا اعتراف جرم کرلیا ہے۔درخواست میں مزید کہاگیا ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے تاخیری حربوں کا سلسلہ آج تک جاری ہے جس کی تازہ مثال یہ ہے کہ سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ 4 جنوری 2022 کو فریقین کے حوالے کی گئی اور ان سے جواب طلب کیا گیا تاہم ڈھائی ماہ گزرنے کے باوجود پی ٹی آئی نے ابھی تک جواب جمع نہیں کرایا ۔درخواست میں کہاگیا ہے کہ اس تاخیر کے لئے یہ غیر منطقی جواز گھڑا گیا ہے کہ پہلے پی ٹی آئی کی ان دو درخواستوں پر فیصلہ دیا جائے
جن کی بنیاد پر خود سکروٹنی کمیٹی کی وہ رپورٹ ہے جس پر جواب اور دلائل دینے سے پی ٹی آئی انکاری ہے ،تحریک انصاف الیکشن کمیشن کے احکامات کی تعمیل نہ کر کے توہین عدالت کی ارتکاب کررہی ہے جس کا فوری نوٹس لیا جانا چاہیے ،فارن فنڈگ کیس میں تمام شواہد سامنے آچکے ہیں فیصلے میں مزید تاخیر بلا جواز ہے،ہماری استدعا ہے کہ 15 مارچ کو مقدمے کی کارروائی باآسانی مکمل کر کے فیصلہ سنایا جائے ۔