منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

اپوزیشن کا صدر عارف علوی کے خلاف مواخذے کی تحریک لانے کا فیصلہ

datetime 10  مارچ‬‮  2022 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ،این این آئی)متحدہ اپوزیشن نے صدر عارف علوی کے خلاف مواخذے کی تحریک لانے کا فیصلہ کرلیا ۔نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق متحدہ اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کے بعد اب صدر عارف علوی کے خلاف مواخذے کی تحریک لانے کا فیصلہ کیا ہے ۔

وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی کامیابی کے فوری بعد صدر پاکستان کے خلاف مواخذے کی تحریک لائی جائے گی۔نئے صدر کے انتخاب کے لیے آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان پر مشتمل دو رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے تاہم اپوزیشن جماعتوں نے نئے صدر کے حوالے سے یہ طے کرلیا ہے کہ اس کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی یا جمعیت علما اسلام سے ہوگا اور نیا صدر عارف علوی کی باقی مدت پوری کرے گا ۔دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے دعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے دن پاکستان تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں کے اراکین قومی اسمبلی ایوان میں موجود نہیں ہوں گے۔ایک انٹرویو میں بابر اعوان نے کہا کہ اجلاس میں صرف قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر ہی موجود ہوں گے، میرا ووٹ نہیں ہے اس لیے میں بھی جاؤں گا۔وزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے اجلاس معمول سے ہٹ کر کسی اور جگہ بلائے جانے کا امکان ہے کیونکہ جس ایوان میں اجلاس ہوتے ہیں اس کی تزئین و آرائش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے اپوزیشن کے عدم اعتماد کے اقدام کے پیچھے غیرملکی ہاتھ کا عندیا دیتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے بائیڈن کو مدد کے لیے بلایا ہے اور اس صورتحال میں اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ ایجنڈا کہاں سے چلایا جا رہا ہے اور کہاں سے حمایت کی جا رہی ہے، ایک منتخب وزیر اعظم کو ہٹانے کے لیے مغرب سے مدد مانگی جا رہی ہے۔

بابر اعوان نے حال ہی میں منعقدہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس کے دوران یورپی یونین ممالک کی جانب سے پاکستان سے روس کے خلاف ووٹ دینے کے مطالبے کو تنقید کا نشانہ بنانے پر وزیر اعظم عمران خان کا دفاع بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ دنیا کی تاریخ میں سفارتکاروں کی اس طرح کی حرکت کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام(ف) کے ایک سینیٹر نے تو ایوان سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک قرارداد بھی جمع کرائی تھی کہ وزیراعظم عمران خان نے غیر ملکی مشن کی بے عزتی کیوں کی لہٰذا ایجنڈا واضح ہے۔تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے قومی اسمبلی میں ووٹوں کی مناسب تعداد کے اپوزیشن کے دعوے پر بابر اعوان نے ماضی کی مثالوں کا حوالہ دیا جہاں حکومت نے پارلیمانی ووٹوں میں اپوزیشن کو شکست دی تھی کیونکہ حکومت کو ‘نمبر گیم’ میں برتری حاصل ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس 189 ووٹ ہیں اور اپوزیشن کے پاس 162 ووٹ ہیں، ہمارے کارڈز ہمارے پاس ہیں اور اپوزیشن کو ناکام بنانے کے لیے ہیٹ ٹرک کی تیاری مکمل ہے۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو اپوزیشن بلا رہی ہے اور جو لوگ ٹیلی ویڑن پر تقریر اور اپنی تحریروں کے ذریعے اپوزیشن کو سپورٹ کرنے کا ماحول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، اس کا ان اپوزیشن کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…