منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

سابق صدر رفیق تارڑ انتقال کر گئے

datetime 7  مارچ‬‮  2022 |

اسلام آباد( آن لائن )پاکستان کے سابق صدر رفیق تارڑ طویل علالت کے بعد 92 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ آرمی چیف،صدر مملکت،شہباز شریف سمیت دیگر اہم سیاسی و سماجی شخصیات نے سابق صدر رکے انتقال پر اظہار تعزیت کیا۔رفیق تارڑ کے انتقال کی تصدیق ان کے پوتے مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطا تارڑ نے ٹوئٹ کے ذریعے کی۔

مسلم لیگ (ن) کی رہنما عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ رفیق تارڑ عرصہ دراز سے علیل تھے، انہیں سانس، شوگر اور پھیپھڑوں سمیت متعدد بیماریاں تھیں۔ سابق صدر کے انتقال پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے مرحوم کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ سابق صدر مملکت، ہمارے شفیق اور مہربان بزرگ، زیرک قانون دان، انصاف پسند جج اور نہایت اچھے انسان محترم رفیق تارڑ بھی رخصت ہوگئے، اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہمارے لئے وہ ایک قابل احترام بزرگ کا درجہ رکھتے تھے جنہوں نے ہر مرحلے پر نہ صرف ہماری مخلصانہ راہنمائی فرمائی بلکہ اپنی دانش مندی، فہم وفراست اور بردباری سے معاملہ فہمی میں بھی ہمیشہ کلیدی کردار اد ا کیا۔مسلم لیگ کے صدر کا کہنا تھا کہ ان کی وفات ایک ذاتی صدمہ ہے، ان کی کمی ہمیشہ ہر قدم پر محسوس ہوتی رہے گی۔ اللہ تعالی تمام وابستگان کو صبر جمیل دے۔

صدر مملکت عارف علوی نے رفیق تارڑ کے انتقال پر افسوس کا اظہا کرتے ہوئے ان کے لیے مغفرت جبکہ اہل خانہ کے لیے صبر کی دعا کی۔چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی محمد رفیق تارڑ کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ رفیق تارڑ منڈی بہاؤالدین میں پیدا ہوئے تھے، انھوں نے 1951 میں پنجاب لاء کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔

رفیق تارڑ 17 جنوری 1991 سے یکم نومبر 1994 تک سپریم کورٹ کے جج بھی رہے۔انہوں نے 6مارچ 1989 سے 31 اکتوبر 1991 تک لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس طور پر خدمات بھی انجام دی۔بعد ازاں رفیق تارڑ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرلی تھی، ان کی بہو سائرہ افضل تارڑ بھی مسلم لیگ (ن) رہنما ہیں۔مرحوم یکم جنوری 1998 سے 20 جون 2001 تک پاکستان کے 9ویں صدرمملکت کے عہدے پر فائز رہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…