پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

جشن آزادی کے موقع پر استعفے؟ ،آفاق احمد نے الطاف حسین پر برس پڑے

datetime 13  اگست‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک) مہاجر قومی موومنٹ (پاکستان) کے چیئرمین آفاق احمد نے کہا کہ جشن آزادی کے موقع پر استعفوں کی سیاست افراتفری پھیلانے کی سازش ہے ،اگر یہی استعفے دو دن بعد دے دیئے جاتے تو کونسی قیامت آجاتی۔اپنی رہائش گاہ پرگلشن اقبال سے آنے والے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین آفاق احمد نے کہا کہ متحدہ کی جانب سے قومی اسمبلی اور سینٹ میں جمع کرائے گئے استعفے مہاجر قوم کے مینڈیٹ کی توہین ہے ،ملک اسوقت اپنوں اور غیروں کی سازشوں کا شکار ہے اس لئے حکومت کو بھی عجلت کا مظاہرہ کرنے کے بجائے سب سے برابری کا سلوک کیا جائے۔۔آفاق احمد نے کہا کہ متحدہ نے جو بہتر سمجھا کیا،اب استعفوں کو بنیاد بنا کر کراچی کا امن متاثر نہیں ہونا چاہئے ،جب استعفوں کیلئے پارلیمانی طریقہ کار اختیار کیا جاسکتاہے تو پھر شہر کا امن بحال رکھنے کیلئے تحمل و برداشت کی سیاست کو بھی فروغ دیا جاسکتا ہے۔آفاق احمد نے مہاجر قوم استعفوں کے معاملے پر کسی سیاست کا حصہ بننے کے بجائے حالات پر نظر رکھے اور کسی کے بہکاوے میں آنے کی بجائے اپنی صلاحیتیں ترقی و خوشحالی کیلئے بروئے کار لائy ۔چیئرمین آفاق احمد نے مزید کہا کہ مہاجر قومی موومنٹ صورتحال کا بغور جائزہ لے رہی ہے اور کسی بھی حال میں کراچی کی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ باہر سے لوگوں کو لاکر شہر پر مسلط کرنے کا منصوبہ عوامی حمایت سے ناکام بنایا جائے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…