نیویارک ٗ واشنگنٹن (این این آئی)یوکرین پر حملے کے بعد امریکا نے سلامتی کونسل میں روس کی مستقل رکنیت ختم کرنے کے طریقوں پرغور شروع کردیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مستقل اراکین کی رکنیت ختم کرنے کے لیے یو این چارٹرمیں تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔
اس حوالے سے امریکا کی نائب وزیرخارجہ وینڈی شرمین نے اراکین کانگریس کوبریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ روس کی سلامتی کونسل کی رکنیت ختم کرنے کے امکان کی تحقیقات جاری ہیں ابھی اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔دوسری جانب یوکرین نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ جورکنیت سوویت یونین کوحاصل تھی، وہ روس کونہیں دی جانی چاہیے، روس کی رکنیت کوچیلنج کیاجاسکتاہے۔ادھر برطانیہ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ میں روس کی حیثیت کس طرح کم کی جائے، بحث کیلئے تیارہیں۔خیال رہے کہ 1945 میں امریکا، برطانیہ، فرانس، چین اورسوویت یونین کومستقل رکنیت دی گئی تھی، بعد ازاں 1991 میں سوویت یونین کیٹوٹنے پررکنیت روس کومنتقل کردی گئی تھی۔دوسری جانب یوکرین پر حملے کے بعد امریکا نے روس کی 22 ڈیفنس کمپنیوں پر بھی پابندی لگادی ۔خبرایجنسی کے مطابق پابندی کی زد میں آنے والی کمپنیوں میں روسی فوج کے لیے لڑاکا طیارے تیار کرنے والی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ جنگی گاڑیاں، الیکٹرانک وار فیئر نظام، میزائل اور ڈرونز تیار کرنے والی کمپنیاں بھی پابندی کا حصہ ہیں۔خبر ایجنسی کے مطابق امریکی حکومت کی تازہ پابندیوں میں بیلاروس کو بھی شامل کیا گیا ہے، بیلاروس کو تیل کی ریفائننگ سے متعلق ٹیکنالوجی فراہم نہیں کی جاسکے گی۔بیلاروس پر پابندی ٹیکنالوجی اور سوفٹ ویئرز کی روس منتقلی روکنے کیلیے لگائی گئی ہے۔



















































