کراچی(این این آئی) نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ مہنگائی کم کرکے عوام کوریلیف فراہم کرنے کا سب سے موثرزریعہ متنازعہ اور ناقابل عمل پیکج نہیں بلکہ بھارت سے تجارتی تعلقات کی بحالی ہے۔ جب سیاست کومعیشت پرفوقیت دینے کے نقصانات
اور معیشت پرترجیح دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے تواب پڑوسی ملک جس کی معیشت روس سے دگنی ہے سے تجارتی تعلقات کی بحالی میں کیا قباحت ہے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دراصل بھارت سے تجارت جاری ہے مگراس کے لئے یواے ای کا راستہ اپنایا جا رہا ہے جس سے اضافی اخراجات کی وجہ سے اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے اورپیداواروبرآمدات مہنگی ہوجاتی ہیں اس لئے حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے تجارت کھولی جائے تاکہ ملک میں پیداواری قیمت اور مہنگائی کم کی جاسکے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ دیگرفصلوں کی طرح کپاس کی پیداواربھی مسلسل گرکرسات سے آٹھ ملین گانٹھ رہ گئی ہے اوراس کمی کوپوراکرنے کے لئے امریکہ اوربرازیل جیسے دوردرازممالک سے بھی کپاس منگوائی جاتی ہے جس پراربوں ڈالرلگتے ہیں مگرپڑوسی ملک کو نظراندازکردیا جاتا ہے جہاں سے درجنوں دیگراشیاء بھی سستے داموں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ امسال ملک میں ٹماٹرکی پیداوارپچاس لاکھ ٹن کے اوسط سے بڑھ کرنوے لاکھ ٹن ہونے کا امکان ہے جس سے مارکیٹ کریش کرجائے گی اور کاشتکاربرباد ہوجائیں گے۔ بہت سے مقامات پرکسان ٹماٹربیچنے کے بجائے کھڑی فصل پرحل چلانے کوترجیح دینگے جس کے اقتصادی نتائج انکے لئے تباہ کن ہونگے۔ دوسری طرف بھارت میں ٹماٹرکی پیداوارتوقعات سے بہت کم ہے اوراسے اس سبزی کی ضرورت ہے اس لئے پاکستان سرپلس پیداواربھارت بھیجے تاکہ زرمبادلہ بھی کمایا جاسکے اورقیمتوں کومتوازن کرکے مقامی کاشتکاروں کوبھی بچایا جاسکے۔ سندھ کے کاشتکار پہلے ہی کھجورکی برآمد بند ہونے سے سخت مشکلات کاشکارہیں جن کو ریلیف دیا جائے۔ میاں زاہد حسین نے مذید کہا کہ بھارت سالانہ چارسوارب ڈالرکی اشیاء درآمد کرتا ہے جس میں پاکستان کی درآمدات جو کہ یو اے ای کے راستے ہوتی ہیں شامل ہیں اور اس کا سارا فائدہ یو اے ای کوہوتا ہے مگربھارتی درآمدات میں براہ راست پاکستان کا کوئی حصہ نہیں ہے جس کا نقصان پاکستان کو ہو رہا ہے جوافسوسناک ہے۔ اگربھارت سے درآمدات میں پاکستان کودوفیصد حصہ بھی مل جائے تویہ آٹھ ارب ڈالرہونگی مگر اسے مسلسل نظراندازکیا جارہا ہے۔



















































