منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

مہنگائی کم کرنے، برآمدات بڑھانے کے لئے بھارت سے تجارت کھولی جائے،مطالبہ کر دیا گیا

datetime 3  مارچ‬‮  2022 |

کراچی(این این آئی) نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ مہنگائی کم کرکے عوام کوریلیف فراہم کرنے کا سب سے موثرزریعہ متنازعہ اور ناقابل عمل پیکج نہیں بلکہ بھارت سے تجارتی تعلقات کی بحالی ہے۔ جب سیاست کومعیشت پرفوقیت دینے کے نقصانات

اور معیشت پرترجیح دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے تواب پڑوسی ملک جس کی معیشت روس سے دگنی ہے سے تجارتی تعلقات کی بحالی میں کیا قباحت ہے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دراصل بھارت سے تجارت جاری ہے مگراس کے لئے یواے ای کا راستہ اپنایا جا رہا ہے جس سے اضافی اخراجات کی وجہ سے اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے اورپیداواروبرآمدات مہنگی ہوجاتی ہیں اس لئے حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے تجارت کھولی جائے تاکہ ملک میں پیداواری قیمت اور مہنگائی کم کی جاسکے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ دیگرفصلوں کی طرح کپاس کی پیداواربھی مسلسل گرکرسات سے آٹھ ملین گانٹھ رہ گئی ہے اوراس کمی کوپوراکرنے کے لئے امریکہ اوربرازیل جیسے دوردرازممالک سے بھی کپاس منگوائی جاتی ہے جس پراربوں ڈالرلگتے ہیں مگرپڑوسی ملک کو نظراندازکردیا جاتا ہے جہاں سے درجنوں دیگراشیاء بھی سستے داموں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ امسال ملک میں ٹماٹرکی پیداوارپچاس لاکھ ٹن کے اوسط سے بڑھ کرنوے لاکھ ٹن ہونے کا امکان ہے جس سے مارکیٹ کریش کرجائے گی اور کاشتکاربرباد ہوجائیں گے۔ بہت سے مقامات پرکسان ٹماٹربیچنے کے بجائے کھڑی فصل پرحل چلانے کوترجیح دینگے جس کے اقتصادی نتائج انکے لئے تباہ کن ہونگے۔ دوسری طرف بھارت میں ٹماٹرکی پیداوارتوقعات سے بہت کم ہے اوراسے اس سبزی کی ضرورت ہے اس لئے پاکستان سرپلس پیداواربھارت بھیجے تاکہ زرمبادلہ بھی کمایا جاسکے اورقیمتوں کومتوازن کرکے مقامی کاشتکاروں کوبھی بچایا جاسکے۔ سندھ کے کاشتکار پہلے ہی کھجورکی برآمد بند ہونے سے سخت مشکلات کاشکارہیں جن کو ریلیف دیا جائے۔ میاں زاہد حسین نے مذید کہا کہ بھارت سالانہ چارسوارب ڈالرکی اشیاء درآمد کرتا ہے جس میں پاکستان کی درآمدات جو کہ یو اے ای کے راستے ہوتی ہیں شامل ہیں اور اس کا سارا فائدہ یو اے ای کوہوتا ہے مگربھارتی درآمدات میں براہ راست پاکستان کا کوئی حصہ نہیں ہے جس کا نقصان پاکستان کو ہو رہا ہے جوافسوسناک ہے۔ اگربھارت سے درآمدات میں پاکستان کودوفیصد حصہ بھی مل جائے تویہ آٹھ ارب ڈالرہونگی مگر اسے مسلسل نظراندازکیا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…