پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

نمبرز پورے، مولانا فضل الرحمان نے 48 گھنٹوں میں تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کر دیا

datetime 2  مارچ‬‮  2022 |

اسلام آباد (آن لائن )سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں میں تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی، نمبرز پورے ہیں،اپوزیشن جماعتیں حکومت کے اتحادیوں پر انحصار نہیں کر رہی ہیں،اسٹیبلشمنٹ کا مجھ سے کوئی رابطہ نہیں ،ن لیگ، پیپلزپارٹی کا اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ ہے یا نہیں، میرے علم میں نہیں ہے،تمام اپوزیشن جماعتوں کا موجودہ حکومت کو گرانے پر اتفاق ہے۔

میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا اسٹیبلشمنٹ سے کسی نے انفرادی طور پر رابطہ کیا تو ادارے نے اس کا نوٹس لیا۔تمام اپوزیشن جماعتوں کا موجودہ حکومت کو گرانے پر اتفاق ہے۔ حکومت گرانے کے بعد نئی حکومت کے قیام سے متعلق ابھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ جب وہ مرحلہ آئے گا تو اس پر بھی فیصلہ کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ہمارا فوکس ہے کہ خزاں جائے، بہار آئے یا نہ آئے، ہم عدم اعتماد سے پہلے کسی داخلی تنازعے میں نہیں پڑنا چاہتے،اگلے 48 گھنٹوں میں تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی۔اپوزیشن جماعتیں حکومت کی اتحادیوں پر انحصار نہیں کر رہی ہیں۔ہمارا انحصار انفرادی شخصیات پر ہے۔ مولانا فضل الرحمن دعوی کیا کہ ہمارے پاس تحریک کی کامیابی کے لیے نمبرز پورے ہیں۔ انہوں نے کہا ایمپائر بظاہر نیوٹرل نظر آ رہے ہیں۔ہم نے ایمپائر سے کوئی سپورٹ نہیں لینی۔ہم نے ایمپائر سے حکومت کی سپورٹ ختم کرانا تھی۔اب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر اعتماد کر رہی ہیں۔کیونکہ اب اپوزیشن جماعتوں کی ضرورت کامن ہو گئی ہے۔عدم اعتماد کی تحریک کی سو فیصد کامیابی کا یقین ہے۔حکومتی اتحادیوں سے بھی اپوزیشن جماعتیں رابطے میں ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا اگلے دو سے تین دن بہت اہم ہیں، تحریک عدم اعتماد اور اجلاس کی ریکوزیشن دونوں پر غور ہورہا ہے، ہماری لیگل ٹیم رابطے میں ہے، سارے امور کو دیکھا جارہا ہے، اپوزیشن کی لیڈرشپ اس وقت مسلسل رابطے میں ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…