جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

روس کا 60 کلومیٹر طویل فوجی قافلہ کیف کی جانب رواں دواں سینکڑوں توپیں، ٹرک، بکتر بند گاڑیاں شامل

datetime 1  مارچ‬‮  2022 |

کیف (این این آئی)یوکرائنی رہنمائوں کا کہنا ہے کہ روسی فوج کا تقریباً 60 کلومیٹر طویل قافلہ دارالحکومت کیف کی جانب بڑھ رہا ہے۔ حالانکہ تین بڑے شہر کییف، خارکیف اور چیرنیف اب بھی یوکرائن کے قبضے میں ہیں۔سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ روسی فوجی گاڑیوں کا تقریباً 60 کلومیٹر طویل ایک بہت بڑا قافلہ یوکرائن کے دارالحکومت کیف کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر فراہم کرنے والی امریکی کمپنی میکسار ٹیکنالوجیز کی طرف سے جاری کردہ تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ روسی فوج کا 60 کلومیٹر سے زیادہ طویل ایک قافلہ کیف کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ابتدا میں کمپنی نے کہا تھا کہ یہ قافلہ27 کلومیٹر تک پھیلا ہواہے لیکن یہ اطلاع غلط ثابت ہوئی۔ میکسار کے مطابق دراصل یہ قافلہ 60 کلومیٹر سے زیادہ طویل ہے۔یوکرائنی خبر رساں ایجنسی یو این آئی اے این نے بھی منگل کی صبح کو اس قافلے کے حوالے سے تصدیق کی ہے۔اس قافلے میں سینکڑوں توپیں، ٹرک، بکتر بند گاڑیاں اور فوجی امدادی گاڑیاں شامل ہیں۔ جو دھیرے دھیرے کیف کی جانب بڑھ رہی ہیں۔یوکرائنی فوج کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے دارالحکومت کیف پر دوبارہ حملہ شروع کردیا ہے۔ یوکرائن کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ کیف کے اطراف میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ اور دشمن فوجی اور سویلین اہداف پر گولہ باری جاری رکھے ہوئے ہے۔بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس بیلاروس کے اعلی تربیت یافتہ فوجی یونٹوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے اور بیلاروس کی فضائی حدود کو یوکرائن پر فضائی حملوں کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

قبل ازیں یوکرائن کے صدر وولادومیر زیلنسکی نے کہا تھاکہ روسیوں کے لیے کیف ایک اہم ہدف رہا ہے۔ وہ ہماری قومیت کو توڑنا چاہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ دارالحکومت کو مسلسل خطرہ ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ کیف کو تین میزائل حملوں سے نشانہ بنایا گیا اور سینکڑوں غنڈہ گردی کرنے والے شہر میں گھوم رہے تھے۔وولادومیر زیلنسکی نے ایک ویڈیو خطاب میں کہاکہ مجھے یقین ہے کہ روس اس طریقے سے یوکرائن پر دباو ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

روس کے خلاف مختلف ملکوں کی طرف سے عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے یوکرائن کے وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر پوٹن کی وجہ سے روس کے عام شہریوں کوخمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ کولیبا نے کہا کہ روس کے ہر روبل پر یوکرائن کا خون لگا ہوا ہے۔دریں اثنا یوکرائنی صدر نے روسی بمباری کو روکنے کے لیے ملک کو’ نو فلائی زون’ قرار دینے کی اپیل کی۔ لیکن وائٹ ہاوس نے یوکرائن کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نوفلائی زون نافذ کرنے سے امریکا بھی روس کے ساتھ جنگ میں پھنس سکتا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…