منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

افغانستان سے پاکستان کا تجارتی حجم کم ہوکر ڈیڑھ ارب ڈالر تک پہنچ گیا

datetime 26  فروری‬‮  2022 |

کراچی(این این آئی)افغانستان میں مربوط کوششوں اور توجہ کے فقدان کے باعث پاکستان اپنا تجارتی حصہ کھو رہا ہے جس کی وجہ سے افغانستان کیلئے پاکستان کا تجارتی حجم 2.5 ارب ڈالر سے گھٹ کر ایک ارب ڈالر سے بھی کم ہوگیا ہے ،ایران سمیت دیگر ممالک کے لیے افغان مارکیٹ میں اپنی کاروباری سرگرمیاں بڑھانے کے مواقع پیدا ہوگئے۔

یہ بات پاکستان افغانستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اسپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں قائم افغانستان سے متعلق کمیٹی کو ارسال کردہ ایک تفصیلی رپورٹ میں بتائی۔رپورٹ بنیادی طور پر کاروباری غیر دوستانہ ایس بی پی کی پالیسیوں، مناسب بارٹر ٹریڈ میکانزم کی عدم موجودگی، سرمایہ کاری اور جوائنٹ وینچر کی پالیسیوں، ایف آئی اے اور ایف بی آر کے غیر ضروری دباؤ اور اقدامات پر مبنی ہے۔ جس میں بتایا گیا کہ افغانستان میں آپریشنل بینکنگ ڈھانچے کی عدم موجودگی میں تیسرے فریق کی ادائیگیوں پر کارروائی کرنے سے بینکوں کا انکار، ڈیوٹی، مالیاتی اصلاحات، دہرا ٹیکس، دونوں میں سے کسی ایک حکومت کی یکطرفہ طور پر ڈیوٹی و ٹیکسوں کے نفاذ، دونوں ممالک میں سامان کی گاڑیوں کی آزادانہ نقل و حرکت، غیر ضروری دستاویزات اور سیکیورٹی چیک اور ٹرانزٹ سہولیات تک رسائی کے باعث تجارتی حجم میں کمی ہوئی۔رپورٹ میں کاروبار دوست ویزا پالیسی کی عدم موجودگی اور دونوں ممالک کے تاجروں کے لیے سہولتوں، ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کو حتمی شکل دینے جیسے معاملات کا احاطہ کیاگیا۔ جوائنٹ چیمبر کے چئیرمین زبیرموتی والا نے ایکسپریس کو بتایا کہ افغانستان کے ساتھ تجارت کا حجم 5ارب ڈالر ہے لیکن افغانستان میں بینکاری نظام کی عدم دستیابی کی صورت حال میں تیسرے ملک کے ذریعے ادائیگیوں کی سہولت دینا چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے تاحال افغانستان کے ساتھ روپے میں تجارت کی سہولت نہیں دی گئی ہے اور نہ ہی بارٹر ٹریڈ کی اجازت ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…