بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

ہیلری کلنٹن کا ذاتی ای میل سرور ایف بی آئی کے حوالے

datetime 12  اگست‬‮  2015 |

واشنگٹن(نیوز ڈیسک)امریکہ کی سابق وزیرِخارجہ ہیلری کلنٹن نے اپنا ذاتی ای میل سرور ایف بی آئی کے حوالے کرنے پر رضا مندی کا اظہار کر دیا ہے۔یہ ای میل سرور ان کے استعمال میں رہا تھا جب وہ بطور وزیرِ خارجہ امور سرانجام دے رہی تھیں۔واضح رہے کہ ہیلری کلنٹن صدارتی امیدوار بھی ہیں اور ماضی میں سرکاری امور کے لیے ذاتی ای میل کے استعمال پر انھیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کا ای میل غیرمحفوظ اور حکومتی اصول و ضوابط کے خلاف تھا۔ایف بی آئی ہیلری کلنٹن کے ای میل سرور کی سکیورٹی کی جانچ پڑتال کر رہی ہے۔
اس سے قبل ہیلرکلنٹن نے اپنی ذاتی ای میلز کے ہزاروں صفحات منظرعام پر لائے گئے تھے تاہم اس وقت ای میل سرور کسی کے حوالے نہیں کیا تھا۔ان کے وکلا ای میلز پر مشتمل ڈرائیوز بھی ایف بی آئی کے حوالے کر دیں گے۔خیال رہے کہ ہیلری کلنٹن کے ذاتی ای میل کے استعمال کا تنازع صدارتی انتخابات میں اہم پہلو بن کر سامنے آیا ہے۔انتخابی اندازوں کے مطابق ووٹرز کی جانب سے ان کے ذاتی ای میل کے استعمال سے متعلق سوالات پر انھیں ’ناقابل اعتبار‘ قرار دینے کے رجحانات میں اضافہ ہوا ہے۔واضح رہے کہ وفاقی معاملات کے لیے سرکاری ای میل اکاؤنٹ کا ہونا ضروری ہے اور وفاقی قانون کے مطابق وفاقی اہلکاروں کی تمام خط و کتابت کو سرکاری ریکارڈ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔اس سے پہلے بھی کئی امریکی حکام نے خط وکتابت کے لیے ذاتی اکاؤنٹس کا استعمال کیا تھا تاہم ہیلری کلنٹن کی جانب سے ذاتی ای میل کا استعمال زیادہ توجہ کا مرکز بنا ہے۔اس سے قبل مارچ میں ہلیری کلنٹن اور ان کے وکلا نے اپنے ذاتی ای میل کے استعمال کے حوالے سے بڑھتے ہوئے تنازعے کے جواب میں حکام سے کہا تھا کہ ان کی ای میلز کو منظرعام پر لایا جائے۔اس وقت انھوں نے کہا تھا: ’جب میں وزیر خارجہ تھی تو میں نے اپنی سہولت کے لیے ذاتی ای میل اکاؤنٹ کا ہی استعمال کیا اور ایسا کرنے کی اجازت وزارت خارجہ میں تھی۔ میں نے سوچا کہ یہ آسان ہو گا کیونکہ ذاتی اور سرکاری ای میل بھیجنے کے لیے مجھے دو دو فون لے کر نہیں چلنا ہوگا۔‘مئی میں ان کی جاری کی گئی 60 ہزار ای میلز میں سے تقریباً نصف ان کے سرکاری امور سے متعلق تھیں جو انھوں نے بطور وزیر خارجہ بھیجیں تھیں۔اس وقت سے وزارت خارجہ کی جانب سے وقفے وقفے سے ان کی ای میلز منظر عام پر لائی جارہی ہیں۔تاہم منگل کو وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ کچھ ای میلز کو منظر عام پر نہیں لاسکتے کیونکہ یہ پیغامات ’انتہائی اہم راز‘ پر مشتمل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…