اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان بھرمیں پولی تھین بیگ (پلاسٹک شاپر) کے استعمال پرپابندی کے باوجود کھلے عام پولی تھین بیگز کی مینو فیکچر نگ ، پروڈکشن ، پرچیز نگ ار سیلنگ کاکام عروج پر ہے ۔ ماحولیات کے ماہرین کے مطابق پولی تھین بیگ کا استعمال نہ صرف ماحولیات کیلئے نقصان دہ ہے بلکہ پولی تھین بیگ انسانی صحت کیلئے بھی مضر ہے ، پولی تھین بیگ میں رکھی گئی گرم اشیاءکے استعمال سے کینسر جیسا موذی مرض لاحق ہوجاتاہے ادارہ برائے تحفظ ماحولیات کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کی درخواست پر سب سے پہلے پولی تھین بیگ کی پروڈکشن پرچیز ، سیل اور استعمال پر سندھ حکومت نے 1994 میں پہلی بار پابند ی عائد کی تھی ، پنجاب کے ادارہ تحفظ ماحولیات نے بھی 1995 میں پابندی عائد کردی تھی ، بلوچستان حکومت نے 2001 میں صوبہ بھر میں پولی تھین بیگ کے استعمال پر پابند ی عائد کردی تھی ۔ خیبر پختونخوا کے محکمہ انڈسٹریز نے بھی صوبہ بھر میں پولی تھین بیگز کی مینو فیکچرنگ پر پابند ی عائد کی تھی جبکہ حال ہی میں کے پی کے محکمہ انڈسٹریز نے بھی صوبہ بھر میں پولی تھین بیگز کی مینو فیکچرنگ پرپابندی عائد کی تھی جبکہ حال ہی میں پختونخوا کی موجودہ حکومت نے بھی پولی تھین بیگز کے استعمال پر پابندی عائد کی ہے ۔ ای پی اے حکام کا کہنا ہے کہ 1997 میں اس وقت کے وزیراعظم نے ملک بھر میں ہر قسم اور رنگ کے پولی تھین بیگز کی مینو فیکچر نگ ، سیل ،پرچیز اور استعمال پر مکمل طورپر پابند عائد کرنے کی ہدایت جاری کی تھی لیکن پابند ی عائد ہونے کے باوجود آج بھی ہزاروں کی تعداد میں رجسٹر ڈ اور نان رجسٹرڈ کارخانے پلاسٹک بیگز کی مینو فیکچر نگ ، پروڈکشن ، سیل اور پرچیز کاکاروبار کرنے میں مصروف ہیں ، ای پی اے حکام کاکہنا تھا کہ انہوں نے پولی تھین کے استعمال کو روک کربائیوں ڈیگر یڈ ایبل بیگز کے استعمال کویقینی بنانے کیلئے کوششیں توکیں لیکن ہمارے پاس انفورسمنٹ فورس نہ ہونے کے باعث اس پر عملدر آمد کوبنانے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے حکام کا کہنا ہے کہ پولی تھین بیگ کا استعمال ماحولیات کیلئے نقصان دہ ہے زیادہ استعمال کے باعث یہ گندے نالوں میںپھنس کر سیوریج لائنوں کو بلاک کرتے ہیں ان کوجلانے سے جو دھواں نکلتا ہے اس سے نہ صرف فضاءآلود ہ ہوتی ہے بلکہ انسانی صحت بھی متاثر ہوتی ہے کھلے عام میدانوں میں پڑے یہ شاپنگ بیگز جانور کھاتے ہیں لیکن ان کے معدہ میں جاکر یہ پھنس جاتے ہیں جو ہضم نہیں ہوتے جس سے جانو ر مرجاتے ہیں ، ای پی اے حکام کاکہنا تھا کہ پولی تھین بیگز میں رکھی گئی کرم اشیاءکے استعمال سے کینسر کا مرض لاحق ہوتا ہے کیونکہ پلاسٹک میں موجو د کیمیکلز گرام اشیاءمیں شامل ہوجاتے ہیں جو انسانی جسم میں داخل ہو کر کینسر کے مرض کا موجب بن جاتاہے ۔
پلاسٹک شاپر بھی کینسر کا سبب ، خرید وفروخت رک نہ سکی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں
-
محکمہ موسمیات نے پہلے روزے سے متعلق پیشگوئی کر دی
-
ٹیلی نار کمپنی کا کروڑوں لوگوں سے تاریخی فراڈ
-
بابراعظم اور شاہین آفریدی کی چھٹی
-
خاتون افسر کو قیدی کیساتھ جنسی تعلقات استوار کرنے پر قید کی سزا
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
لاہور میں رشتہ دکھانے کے بہانے 2 سگی بہنوں کو 3 ملزمان نے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا
-
انجینئر محمد علی مرزا پر اکیڈمی میں حملہ
-
بینکوں سے لین دین کرنے والوں کیلئے اہم خبر
-
،ویلنٹائن ڈے کے روز کار سے نوجوان جوڑے کی لاشیں پراسرار حالت میں برآمد
-
پاکستان کے خلاف جیت کے باوجود بھارتی کھلاڑی آپس میں لڑ پڑے، ویڈیو وائرل
-
محکمہ موسمیات کی مغربی لہر کے زیر اثر گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
-
لاہور میں خاتون کو ہراساں کرنے والے رکشہ ڈرائیورکے نیفے میں پستول چل گیا
-
شاہد آفریدی اپنے داماد شاہین آفریدی پر شدید برہم



















































