بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

’بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارتی اور افغان خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں‘ میجر جنرل شیر افگن

datetime 11  اگست‬‮  2015 |

کوئٹہ (نیوز ڈیسک)صوبہ بلوچستان میں فرنٹیئر کور کے انسپیکٹر جنرل میجر جنرل شیر افگن نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کا ہاتھ ہے۔ایف سی ہیڈ کوارٹر کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے اور بلوچستان کے عوام نے سکیورٹی فورسز کا بھرپور انداز سے ساتھ دیا جس کے باعث دہشت گردی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے۔انھوں نے بتایا کہ بلوچستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کے حوالے سے سب سے زیادہ واقعات کوئٹہ شہر میں رونما ہورہے تھے اور شدت پسندوں کا ہدف ہزارہ قبیلے کے لوگ تھے لیکن سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں فرقہ وارانہ دہشت گردی میں ملوث کئی افراد ہلاک ہوئے ہیں۔جس سے فرقہ وارانہ دہشت گردی کے واقعات میں بڑی حد تک کمی ہوئی ہے۔ آئی جی ایف سی نے بتایا کہ رواں سال مارچ اور اپریل میں صوبے کے پسماندیہ علاقے لورالائی میں تحریک طالبان سے وابستہ شدت پسند آئے تھے لیکن ان کے خلاف بھی موئثر کارروائی کی گئی۔’ان کے خلاف سو آپریشن کیے گئے جس کے باعث ان میں سے بعض لوگ مارے اور بعض پکڑے گئے جبکہ بعض دیگر علاقوں میں یا افغانستان چلے گئے۔‘ آئی جی ایف سی نے بتایا کہ جہاں تک مشرقی اور جنوبی علاقوں کا تعلق ان میں مختلف کالعدم تنظیمں دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ان تنظیموں میں کلعدم بی ایل اے، یوبی اے، بی آرے، بی ایل ایف، لشکر بلوچستان اور بی آر جی وغیر ہ شامل ہیں۔ان تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائیوں سے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں بھی دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ڈیرہ بگٹی، کوہلو، سبی اور دیگر علاقوں میں گذشتہ چند ماہ کے دوران کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا۔آئی جی ایف سی نے بتایا کہ قلات ڈویڑن پر امن ہوگیا ہے جبکہ پنجگور اور مکران کے علاقوں میں بھی بہتری آئی ہے۔میجر جنرل شیر افگن کا کہنا تھا کہ آواران سمیت بعض دیگر علاقوں میں تھوڑا بہت مسئلہ لیکن وہاں بھی حالات جلد ٹھیک ہوں جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…