لندن (این این آئی)ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ نے کہا ہے کہ ان کے شوہر بلال شاہ کی جانب سے دائر کردہ درخواست کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور اسٹیٹ بینک کو ان کے خلاف کارروائی سے روک دیا۔حریم شاہ نے ایک انٹرویومیں بتایا کہ ان کے شوہر بلال شاہ نے وکیل منیر احمد کے توسط سے
سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ٹک ٹاکر کے مطابق ان کے شوہر کی درخواست پر سندھ ہائی کورٹ نے ان کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے ایف آئی اے، پی ٹی اے اور اسٹیٹ بینک سمیت دیگر اداروں کو ان کے خلاف کسی بھی طرح کی کارروائی سے روک دیا۔انہوں نے عدالت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ رواں برس مارچ میں عدالت کے بلانے پر وہاں پیش ہونے کے لیے پر امید ہیں، تاہم اگر وہ بعض وجوہات کی بنا پر ملک نہ آ سکیں تو ان کے شوہر اور وکیل عدالت میں پیش ہوں گے۔حریم شاہ کے مطابق عدالتی احکامات کے بعد ایف آئی اے اور اسٹیٹ بینک ان کے اکائونٹ فریز نہیں کر سکیں گے جبکہ پی ٹی اے بھی ان کے سوشل میڈیا اکائونٹس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکے گی۔انہوں نے بتایا کہ پی ٹی اے نے ان کے ٹک ٹاک اکائونٹ سے بلیو ٹک ہٹوایا جبکہ ایف آئی اے نے انہیں ٹکٹ فراہم کرنے والے ٹریول ایجنٹ کو کال کرکے ان کے ٹکٹس منسوخ کرنے کے لیے بھی کہا۔حریم شاہ نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر غیر ملکی کرنسی کے ساتھ بنائی گئی ویڈیو مذاق میں بنائی تھی اور انہوں نے اس پر معافی بھی مانگی تھی اور ایف آئی اے سے ہر طرح کا تعاون کرنے کا بھی کہا تھا مگر اس کے باوجود ان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کے خط لکھنے کے باوجود برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہییں کی مگر وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ان کے خلاف ایسے اقدامات اٹھائے، جیسے کہ وہ بڑی مجرم ہوں یا وہ پہلے کسی بڑے عہدے پر رہی ہوں۔انہوں نے سندھ ہائی کورٹ اور اپنے وکیل سمیت میڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کے خلاف ایف آئی اے اور پی ٹی اے عدالتی احکامات کی روشنی میں کوئی کارروائی نہیں کر سکتے۔



















































