بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

کووڈ سے موت کا خطرہ بڑھانے والے جین کی دریافت کرلئے گئے

datetime 15  جنوری‬‮  2022 |

لندن (این این آئی)سائنسدانوں نے ایک ایسے جین کو دریافت کیا ہے جو کووڈ 19 سے بہت زیادہ بیمار ہونے یا موت کا خطرہ بڑھاتا ہے۔پولینڈ کے طبی ماہرین نے اس جین کو دریافت کیا اور وہاں کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس پیشرفت سے ان افراد کو شناخت کرنے میں مدد مل سکے گی جن کو بیماری سے سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔پولینڈ میں کووڈ 19 کی وبا سے اب تک ایک لاکھ سے

زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ماپرین کی جانب سے جون 2022 کے آخر تک ایسے جینیاتی ٹیسٹوں کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے تاکہ کووڈ سے زیادہ خطرے سے دوچار افراد کی شناخت کی جاسکے۔میڈیکل یونیورسٹی آف بائیلسٹوک کی تحقیق کے تخمینے کے مطابق خطرہ بڑھانے والا جین 14 فیصد پولش آبادی میں موجود ہے جبکہ یورپ میں یہ 9 فیصد اور بھارت میں 27 فیصد افراد میں پایا جاتا ہے۔تحقیق کے مطابق عمر، وزن اور جنس کے ساتھ بیماری کی شدت کے تعین میں مددگار چوتھا اہم ترین عنصر ہے۔محققین نے بتایا کہ ایک جینیاتی ٹیسٹ سے ان افراد کی شناخت میں ممکنہ مدد مل سکے گی جن میں بیماری کا خطرہ ہوگا اور ایسا ان کے بیمار ہونے سے پہلے جاننا ممکن ہوسکے گا۔ تحقیق میں لگ بھگ ڈیڑھ ہزار افراد کو شامل کیا گیا تھا۔ دریافت یہ ممکنہ وضاحت ہوتی ہے کہ ویکسینیشن کرانے سے ہچکچاہٹ سے ہٹ کر بھی پولینڈ میں کووڈ سے اموات کی شرح زیادہ کیوں ہے۔پولینڈ یورپ میں کووڈ سے شرح اموات کے لحاظ سے سب سے اوپر ہے جو 20 فیصد سے زیادہ ہے۔پولش وزارت صحت نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس نئی تحقیق کے نتائج کسی طبی جریدے میں شائع ہوئے ہیں یا نہیں۔اس سے قبل نومبر 2021 میں برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں کووڈ کے مریضوں میں موت اور پھیپھڑوں کے افعال فیل ہونے کا خطرہ بڑھانے والے ایک جین کو دریافت کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔تحقیق میں بتایا گیا کہ جین کا یہ ورڑن کروموسوم کے خطے میں ہوتا ہے جس کو ماہرین نے 60 سال سے کم عمر کووڈ مریضوں میں موت کا خطرہ دگنا بڑھا دیتا ہے۔تحقیق کے مطابق یہ مخصوص جین ایل زی ٹی ایف ایل 1 دیگر جینز کی سرگرمیوں کو ریگولیٹ کرنے کا کام کرتا ہے اور وائرسز کے خلاف پھیپھڑوں کے خلیات کے ردعمل کے عمل کا بھی حصہ ہوتا ہے۔جین کی یہ قسم سانس کی نالی اور پھیپھڑوں کے خلیات میں وائرس کو جکڑنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ مگر یہ جین مدافعتی نظام پر اثرات مرتب نہیں کرتا جو بیماریوں سے لڑنے کے لیے اینٹی باڈیز بنانے کا کام کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جن افراد میں جین کی یہ قسم ہوتی ہے ان میں ویکسینز کا ردعمل معمول کا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ بیماری کے خلاف پھیپھڑوں کا ردعمل انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…