بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

سینٹرل جیل کراچی میں قتل کے قیدی کو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی اسکالر شپ مل گئی

datetime 13  جنوری‬‮  2022 |

کراچی(این این آئی) سینٹرل جیل کے قیدی نعیم شاہ نے تاریخی کارنامہ سرانجام دے دیا۔سینٹرل جیل کے سینئر سپرنٹنڈنٹ محمد حسن سہتو نے بتایا کہ قیدی سید نعیم شاہ کو قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی اور وہ گزشتہ گیارہ برس سے جیل میں ہے، قید کے دوران

اس نے اپنی پڑھائی کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا، میٹرک کیا اور اس کے بعد انٹرمیڈیٹ کا امتحان دیا، جس میں شاندار نمبروں سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے ٹاپ ٹوئنٹی میں جگہ بنائی۔انٹرمیڈیٹ کے بعد اس نے اعلی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بننے کے لیے انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ آف پاکستان آئی کیپ سے رابطہ کیا، آئی کیپ نے اس کا شاندار تعلیمی کیریئر دیکھتے ہوئے اسے اسکالر شپ آفر کردی، اس سلسلے میں باقاعدہ طور پر خطوط کا تبادلہ ہوا جس میں آئی کیپ نے بتایا کہ وہ ان کے اسکالر شپ پروگرام کے لیے اہل ہے اور اسے دس لاکھ روپے کی اسکالر شپ دی جارہی ہے۔سینئر سپرنٹنڈنٹ نے مزید بتایا کہ جیل میں رہنے کے دوران نعیم شاہ نے اچھے چال چلن کا مظاہرہ کیا جبکہ کسی قیدی سے زیادہ بات چیت کے بجائے وہ اپنا زیادہ تر وقت پڑھائی میں گزارتا تھا جس کی بنیاد پر جیل حکام نے بھی اس کی بھرپور حوصلہ افزائی کی اور پڑھائی کے سلسلے میں اس کی ہر ممکن مدد کی، نعیم کی اپنی لگن اور جیل حکام کی حوصلہ افزائی کی بدولت آج نعیم یہ مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…