بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

بارودی سرنگیں سونگھنے والا گولڈ میڈلسٹ چوہاآٹھ سال کی عمر میں چل بسا

datetime 13  جنوری‬‮  2022 |

لندن(این این آئی)بارودی سرنگیں سونگھ کر خطرے سے بچانے والا مشہورگولڈ میڈلسٹ افریقی چوہا ماگاوا آٹھ سال کی عمر میں چل بسا۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق پانچ سالہ کیرئیر میں ماگاوا نے کمبوڈیا میں 100 سے زیادہ بارودی سرنگیں اور دیگر دھماکا خیز مواد سونگھا۔

ماگاوا سب سے کامیاب چوہا تھا جسے بیلجیئم کے ایک خیراتی ادارے اپوپو نے تربیت دی تھی تاکہ انسانوں کو بارودی سرنگوں کے بارے میں آگاہ کرکے انہیں محفوظ طریقے سے ہٹایا جا سکے۔رپورٹس کے مطابق دھماکا خیز مواد کے اندر کیمیائی کمپائونڈ کا پتہ لگانے کے لیے تربیت یافتہ، ماگاوا نے ایک لاکھ 41 ہزارمربع میٹر سے بھی زیادہ زمین کوچیک کیا۔اس کے علاوہ اس کا وزن 1.2کلوگرام تھا جبکہ وہ 70سینٹی میٹر لمبا تھا، اگرچہ وہ چوہوں کی بہت سی دوسری نسلوں سے کہیں زیادہ بڑا تھا لیکن ماگاوا ابھی بھی اتنا چھوٹا اور اتنا ہلکا تھا کہ اگر وہ بارودی سرنگوں کے اوپر سے چلتا تو وہ پھٹتی نہیں تھیں۔دوسری جانب خیراتی ادارے اپوپو نے ایک بیان میں کہا کہ ماگاوا کی گزشتہ ہفتے کے آخر میں موت ہوئی، وہ بلکل صحت مند تھا لیکن آخر کے دنوں میں بہت سست ہوگیا تھا اور کھانے میں بلکل دلچسپی ظاہر نہیں کرتا تھا۔اپوپو کے مطابق ماگاوا صرف 20 منٹ میں ٹینس کورٹ کے سائز کے میدان کی مکمل تلاشی کی صلاحیت رکھتا تھا جبکہ یہی کام کرنے میں میٹل ڈیٹیکٹر کے ساتھ ایک انسان کو ایک سے چار دن لگتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…