دبئی (نیوزڈیسک) پاک فوج نے کرپشن میں ملوث اپنے ہی سینئر جرنیلوں کے خلاف کارروائی کرکے ایک بے مثال اقدام کیا ہے ۔ لیکن اس کے باوجود، تین اور دو ستارہ جرنیلوں کے خلاف کارروائی کا مطلب یہ ہے کہ بیوروکریٹس، سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں اور دیگر کے خلاف بھی اسی طرح کے احتساب کیلئے تیاری کر لی گئی ہے بالخصوص اس وقت جب ان کی لوٹ مار کی رقم دہشت گردوں، مجرمانہ گینگز یا مافیاز یا جرائم پیشہ افراد کی مدد یا معاونت یا ان کی عوام مخالف کارروائیوں سے جوڑی ہو۔ میڈیا اور سیاسی حلقوں میں کراچی کے سویلین حکومتی محکموں کے خلاف کارروائی اور طویل عرصہ سے غیر فعالیت کے بعد نیب کے دوبارہ فعال ہونے کے حوالے سے ہنگامہ برپا تھا۔ روزنامہ جنگ کے معروف تجزیہ کارشاہین صہبائی کے ایک تجزیہ کے مطابق ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹرز نائن زیرو، کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، حتیٰ کہ سوک سینٹر پر جمعرات کو ہونے والی کارروائی کے نتیجے میں سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے بھی تنقید کی، وہ اس بات پر ناراض ہیں اور اس صورتحال کو وفاقی حکام کی ان کے دائرۂ اختیار میں مداخلت قرار دیتے ہیں۔ جذبات سے عاری چہرے اور تقریباً ناقابل یقین انداز میں وزیراعلیٰ سندھ کا اصرار ہے کہ گزشتہ پانچ سال سے ان کا اپنا انسداد بدعنوانی کا محکمہ اور صوبائی نیب ان کی انتظامیہ میں ’’بہت زیادہ فعال‘‘ ہیں اور اس کی مثال یہ ہے کہ 19 گریڈ تک کے افسران کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ کچھ کہہ سکے اور نہ ہی انہوں نے سیاسی رہنمائوں کے خلاف عائد کردہ الزامات کے معاملے پر بات کی یا پھر ان الزامات کی تردید کی یا تبصرہ کیا کہ اہم سیاسی رہنمائوں کے گھروں یا پراپرٹیز سے لوٹی ہوئی دولت برآمد کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے، ان سیاستدانوں کی اکثریت پہلے ہی ملک سے جا چکی ہے۔ پہلے تو پیپلز پارٹی ان الزامات سے انکار کرتی رہی اور جب کسی پی پی رہنما سے پوچھا جاتا تو وہی تردید دہرائی جاتی اور یہ دلیل دی جاتی کہ اگر کوئی الزامات ہیں تو عدالت میں ثابت کیے جائیں۔ لیکن وزیراعلیٰ سندھ قائم شاہ نے اس بات کا اشارہ ضرور دیا کہ ایف آئی اے / رینجرز سوک سینٹر سے ایک ٹرک میں ہزاروں فائلیں لے گئے ہیں، ان میں کئی ’’انتہائی حساس فائلیں‘‘ بھی ہیں۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران اس بات کی وضاحت نہیں کی۔ اس سیاسی مخالفت کے تناظر میں دیکھیں، فوج کی جانب سے اپنے ہی جرنیلوں کے خلاف ایکشن نے گیند اب سیاسی حکومتوں، بالخصوص منتخب حکومتوں، نیب، ایف آئی اے، انسداد بدعنوانی کی کمیٹیوں کے کورٹ میں ڈال دی ہے اور آخر میں معاملہ عدالتوں پر حتمیٰ کارروائی کیلئے چھوڑ دیا ہے۔ چونکہ یہ ادارے کام نہیں کر رہےتھے اور کرپشن بے لگام ہو چکی تھی اور اب تو اس کا تعلق دہشت گردی سے جڑ رہا ہے، اسلئے اب یہ ذمہ داری فوج، رینجرز اور تمام صوبائی و وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ کرپشن کے خلاف ہر کسی کے خلاف کارروائی کریں، چاہے وہ کوئی بھی ہو، کتنا ہی بڑا یا چھوٹا کیوں نہ ہو، سیاسی ہو یا مذہبی یا پھر اس کا تعلق مافیا کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ کئی چھاپوں اور ہزاروں ثبوت اور معلومات ملنے کے باوجود مجبوری یا پھر رد عمل کے ڈر کی وجہ سے بڑے سیاست دانوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر تنقید بڑھنے کے ساتھ ان پر عوامی دبائو اور مطالبات بڑھ رہے ہیں۔ کرپشن کے ان مقدمات میں ملوث کئی افراد کو نچلی سطح پر مثلاً بڑے لوگوں کے فرنٹ مین، کو گرفتار کیا گیا ہے لیکن اب تک کسی بڑی مچھلی کو ہاتھ تک نہیں لگایا گیا۔ لہٰذا، اگر فوج کی جانب سے اپنے جرنیلوں کے خلاف کارروائی کا اگلا مرحلہ ملک کے اندر یا باہر موجود کسی بڑی مچھلی پر ہاتھ ڈالنا ہے تو یہ بہت ہی منطقی اور مقبول اقدام ہوگا۔ لیکن اگر فوجی حکام نے اپنے افسران کے خلاف کارروائی روک دی اور منصوبہ سازوں (ماسٹرمائنڈز) کو نہ پکڑا تو یہ ایسا لگے گا کہ جیسے این ایل سی کیس صرف نقادوں کو خاموش کرانے کی ترکیب تھی اور زیادہ کی توقع نہ کی جائے۔
پاک فوج کی سابق جرنیلوں کے خلاف کارروائی ،اب کس کی باری ہے ؟
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
Mind The Gape
-
سکندر رضا نے 40 سال کی عمر میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں نئی تاریخ رقم کردی
-
نیوزی لینڈ میں مستقل رہائش، تعلیم اور کام کے مواقع؛ ویزا حاصل کرنے کا مکمل طریقہ جانیے
-
نوجوان کرکٹر کا اچانک ریٹائرمنٹ کا اعلان، سافٹ ویئر کمپنی میں ملازمت اختیار کرلی
-
پاکستانی قطر کا 30 دن کا فری ویزا کیسے حاصل کرسکتے؟ شرائط سامنے آگئیں
-
فخر زمان نے سعید انور کا ریکارڈ برابر کردیا
-
اگلے 3 روز کیلیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان
-
9 نومبر کو عام تعطیل کا نوٹی فکیشن جاری
-
سونے کی قیمت میں 10 ہزار روپے سے زائد کی کمی
-
اداکار معمر رانا کی اہلیہ نے خلع لے لیا،فیملی کورٹ سے ڈگری جاری
-
سرکاری ملازمین کی بیٹیوں کےلیے بڑی خوشخبری، بند پنشن بحال کرنے کا حکم
-
مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھارتی اینکر سے شادی کرلی
-
روٹی کے پیسے کم دینے کے تنازعہ پر 16 سالہ لڑکاقتل ، سی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ گئی
-
ضمانت پر رہائی کے بعد اقرار الحسن کی ویڈیو سامنے آ گئی



















































