اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

اسلام آباد میں تمام اداروں نے اپنے اپنے رئیل سٹیٹ کے بزنس کھولے ہوئے ہیں، وزارت داخلہ، ایف آئی اے ، آئی بی سب نے اپنی اپنی ہائوسنگ سوسائٹیز بنائی ہوئی ہیں، چیف جسٹس اطہر من اللہ

datetime 30  دسمبر‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ اداروں نے اپنے نام سے سوسائٹیز بنائی ہیں ان کے پرائیویٹ بزنس ہیں اس سے بڑا مفاد کا ٹکراؤ کیا ہے؟ہائی کورٹ میں وفاقی دارالحکومت میں پولیس آرڈر پر عمل درآمد سے متعلق کیس پر سماعت ہوئی۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان، آئی جی اسلام آباد ، سیکریٹری داخلہ ، ڈپٹی کمشنر

اسلام آباد عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ہائی کورٹ نے کہا کہ پورا سسٹم عام آدمی کے لیے بیٹھا ہے کہ لیکن سب کام اس کے خلاف ہو رہا ہے، ہمیشہ کہا جاتا ہے کہ عدلیہ کا دنیا میں کون سا ریٹ ہو گیا ہے، کیسے قبضے ہوتے ہیں ان سب آفیشلز کو پتہ ہے ایس ایچ او پٹواری ملوث نا ہو تو قبضہ ہو ہی نہیں ہو سکتا ، اداروں نے اپنے نام سے سوسائٹیز بنائی ہیں ان کے پرائیویٹ بزنس ہیں اس سے بڑا مفاد کا ٹکراؤ کیا ہے؟۔ وفاقی حکومت پراسیکوشن برانچ بنانے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔چیف جسٹس نے کہا کہ بڑے آدمی کو کچھ ہو جائے تو پوری مشنری ادھر پہنچ جاتی ہے لیکن عام آدمی کے لیے کچھ نہیں کیا جاتا، ڈپٹی کمشنر بے بس ہیں کیونکہ وہ خود کوآپریٹو سوسائٹی کے ہیڈ ہیں ، کیا وزارت داخلہ کی سوسائٹی کے خلاف ڈپٹی کمشنر فیصلہ کر سکتا ہے؟ جو بھی ججمنٹ دی اس کو لیکر دراز میں رکھ دیا جاتا ہے کیونکہ وہ غریب سے متعلق ہوتی ہے، یہاں اسلام آباد میں تمام اداروں نے اپنے اپنے رئیل اسٹیٹ کے بزنس کھولے ہوئے ہیں ،

ریاست جس نے عوام کا تحفظ کرنا ہے اس کے آرگنائزر خود کرائم میں ملوث ہیں، ایلیٹس کی اجارہ داری ہے کوئی رول آف لا نہیں ، ایف آئی اے ، داخلہ ، آئی بی سب نے اپنی اپنی ہاؤسنگ سوسائٹیز بنائی ہوئی ہیں ، قبضہ گروپس کو ریاستی اداروں کی جانب سے پروٹیکشن حاصل ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ساٹھ سال پہلے جن کی زمینیں لیں ان کو معاوضے

نہیں دئیے گئے ، کون آئے گا ان کمزور لوگوں کے تحفظ کرنے، کیا آپ آئی بی وزارت داخلہ کے رئیل اسٹیٹ بزنس کو کیسے Justify کر سکتے ہیں ؟۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ جیسے ہی موٹروے سے اتریں تو بڑا سا بورڈ لگا ہے سپریم کورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی ، رجسٹرار کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی اس سے متعلق لاچار ہے ، پچھلی سماعت

پر بتایا گیا تھا کہ اداروں کے نام پر ہاؤسنگ سوسائٹی رکھنا غیر قانونی ہے، اب یہ ختم ہونا چاہے مفادات کا ٹکراؤ ختم ہونا چاہیے، آپ مجھے بتائیں آئی بی سوسائٹی کی کیا ہسٹری ہے کیا وہ قبضہ گروپس میں ملوث نہیں تھی ؟۔ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے کہا کہ وزارت داخلہ کا ہاؤسنگ سوسائٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ یہ بہت سنگین معاملہ وفاقی کابینہ اور وزیراعظم کے نوٹس میں لائیں۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…