ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کی شہباز شریف، مرحومہ کلثوم نواز پر اضافی ٹیکس کے اطلاق پر ایف بی آر کو آخری وارننگ

datetime 1  اکتوبر‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے مسلم لیگ ن کے صدر و اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور مرحومہ کلثوم نواز پر اضافی ٹیکس کے اطلاق پر ایف بی آر کو آخری وارننگ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ایف بی آر بتائے اضافی ٹیکس کا نوٹس کب دیا،

ایف بی آر اپنی دستاویز کا جائزہ لے،نوٹس اگر فریقین کو دیا گیا تو اضافی ٹیکس کا اطلاق ہو جائے گا۔جمعہ کو جسٹس عمر عطا بندیال کہ سربراہی میں دو رکنی بینچ نے معاملہ پرسماعت کی۔دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ یہ 1994۔95 کا معاملہ ہے،اضافی ٹیکس 2002 میں لگا،نوٹس کب ہوا،تاریخ بھی ایف بی آر نے نہیں بتائی،ایف بی آر کو آخری موقع ہے، نوٹس نہ ثابت نہ ہوا تو کیس اڑا دینگے۔ اس دوران ایف بی آر کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ کہ نوٹس دیا گیا تھا،جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ سوال یہ ہے کہ اضافی ٹیکس لگانے سے قبل فریقین کا نوٹس دیا گیا، کیا نوٹس فریقین کو موصول ہوا،ایف بی آر کے کہنے سے تو نوٹس کی وصولی ثابت نہیں ہو سکتی۔ عدالت عظمی نے مسلم لیگ ن کے صدر و اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور مرحومہ کلثوم نواز پر اضافی ٹیکس کے اطلاق پر ایف بی آر کو آخری وارننگ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ایف بی آر بتائے اضافی ٹیکس کا نوٹس کب دیا،ایف بی آر اپنی دستاویز کا جائزہ لے،نوٹس اگر فریقین کو دیا گیا تو اضافی ٹیکس کا اطلاق ہو جائے گا۔واضح رہے کہ ایف بی آر نے اضافی ٹیکس سے متعلق ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر رکھی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…