ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

بھارت میں ہندوؤں کی نسبت مسلمانوں کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ٗ بی بی سی پر شائع ہونے والے تحقیق میں اہم انکشافات

datetime 22  ستمبر‬‮  2021 |

ممبئی(این این آئی) بھارت میں مذہبی اعتبار سے آبادی کے تناسب میں تبدیلی آرہی ہے۔ ہندوؤں کی نسبت مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہورہا ہے۔بی بی سی پر شائع ہونے والے تحقیق کے مطابق بھارت میں تمام مذہبی گروہوں میں شرح پیدائیش میں واضح کمی آئی ہے، تاہم اس کے باوجود مسلمان خواتین میں شرح پیدائش دوسرے مذاہب کی نسبت زیادہ ہے۔پیوریسرچ سینٹر کی جانب سے ہونے

والی اس تحقیق کے مطابق بھارت کی 1 ارب 20 کروڑ آبادی میں بڑا حصہ (94 فیصد) ہندوؤں اور مسلمانوں پر مشتمل ہے، جب کہ عیسائی، سکھ، بدھ مت اور جین مذہب کے ماننے والے بھارت کی آبادی کا 6 فیصد ہیں۔Pew کے اس مطالعے میں بھارت کے دو سالہ مردم شماری اور قومی صحت کے سروے کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں مذہبی تناسب تبدیل ہوچکا ہے اور اس تبدیلی کے پیچھے اہم وجہ یہ ہے کہ 1947 میں تقسیم کے بعد سے 2011 تک بھارت کی آبادی تین گنا سے زائد بڑھی۔1951 میں ہونے والی پہلی مردم شماری کے مطابق بھارت کی آبادی 36 کروڑ 10 لاکھ تھی اور 2011 میں ہونے والی آخری مردم شماری میں یہ بڑھ کر 1 ارب 20 کروڑ ہوگئی تھی۔ اس عرصے میں بھارت میں رہنے والے ہر بڑے مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی آبادی میں اضافہ ہوا۔ ہندوؤں کی تعداد 30 کروڑ 4 لاکھ سے بڑھ کر 96 کروڑ 60 لاکھ، مسلمانوں کی آبادی ساڑھے تین کروڑ سے بڑھ کر 17 کروڑ 20 لاکھ اور عیسائیوں کی تعداد 80 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 80 لاکھ ہوگئی۔بھارت کی آبادی میں 79 اعشاریہ 8 فیصد

ہندو اور 14 اعشاریہ 2 فیصد مسلمان ہیں۔ بھارت انڈونیشیا کے بعد مسلمانوں کی آبادی والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ باقی آبادی دوسرے مذاہب رکھنے والوں پر مشتمل ہے۔ریسرچ کے مطابق 1992 تک بھارت میں مسلمانوں میں شرح پیدائش 4 اعشاریہ 4 بچے فی خاتون اور ہندوؤں میں 3 اعشاریہ 3 بچے فی خاتون تھی۔ 2015 میں بھی بھارت

میں ہندوؤں کی نسبت مسلمانوں میں شرح پیدائش 2 اعشاریہ 6 بچے فی خاتون اور ہندوؤں میں 2 اعشاریہ 1 بچہ فی خاتون تھی۔ بھارت کے مذہبی گروپوں میں سب سے کم شرح پیدائش جین مذہب کے ماننے والوں میں ہے۔پیو ریسرچ کی سینئر محقق اسٹیفنی کریمر کا اس بارے میں کہنا ہے کہ بھارت میں شرح پیدائش میں کمی کے رجحان سے گزشتہ کچھ دہائیوں میں ہندوؤں کی آبادی میں کمی ہوئی ہے۔ 1990

تا 2015 کے عرصے میں مجموعی طور پر بچوں کی شرح 3 اعشاریہ 4 بچے فی خواتین سے کم ہوکر2 اعشاریہ 2 بچے فی خاتون ہوگئی ہے تا ہم مسلم خواتین میں شرح پیدائش اب بھی سب سے زیادہ ہے۔تحقیق کے مطابق 60 سال کے عرصے میں بھارت کی آبادی میں مسلمانوں کے تناسب میں 4 فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ اسی عرصے میں ہندوؤں کی آبادی میں 4 فیصد کمی ہوئی ہے۔ اور اس کی سیدھی سی وجہ یہی ہے کہ مسلمان خواتین کے بچوں کی اوسط تعداد دیگر بھارتی خواتین کی نسبت زیاد ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…