جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

چیف جسٹس گلزار احمد نے علامہ محمد اقبال روم اور پاکستان کارنر کا افتتاح کر دیا

datetime 19  ستمبر‬‮  2021 |

جکارتہ(این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے الازہر یونیورسٹی جکارتہ کی لائبریری میں علامہ محمد اقبال روم اور پاکستان کارنر کا افتتاح کردیا۔ چیف جسٹس انڈونیشیا کے چار روزہ دورے پر ہیں ، جسٹس اعجاز الاحسن بھی ان کے ہمراہ ہیں اوروہ آئینی و سپریم کورٹس/او آئی سی کے ممبر/مبصر ریاستوں کی دوسری جوڈیشل کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

افتتاحی تقریب جکارتہ کی الازہر یونیورسٹی میں منعقد ہوئی ، جو انڈونیشیا کی معزز یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے اور اس میں الازہر یونیورسٹی کے ریکٹر ، فیکلٹی ممبران اور منتخب طلبا نے شرکت کی۔افتتاحی تقریب سے ریکٹر الازہر یونیورسٹی آسیپ سیف الدین نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے حکومت پاکستان کا اس اقدام کے لیے شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ دونوں ممالک کے نوجوانوں کو ایک دوسرے کے قریب لائے گا۔پاکستانی سفیر محمد حسن نے پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان برادرانہ تعلقات کی تاریخی نوعیت کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ سفارت خانہ دو طرفہ تعلقات کو بڑھانے کے ساتھ خصوصی طور پر تعلیمی تعاون کے لیے مزید جدید طریقے تلاش کر رہا ہے ۔ جسٹس اعجازالاحسن نے اپنے خطاب میں دورے کے دوران گرم جوش مہمان نوازی پر انڈونیشیا کی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور تعلیمی تعاون بڑھانے میں پاکستانی سفارت خانہ اور الازہر یونیورسٹی کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یونیورسٹی میں پاکستان کارنر اور علامہ محمد اقبال روم کے قیام سے انڈونیشیا کے طلبا کو موقع ملے گا کہ وہ پاکستان کی تاریخ اور بھرپور ادبی ورثہ اور علامہ محمد اقبال کے افکار اور فلسفے کو تلاش کریں۔افتتاحی تقریب کے اختتام پر چیف جسٹس مسٹر جسٹس گلزار احمد نے دیگر مہمانوں کے ہمراہ پاکستان کارنر اورر علامہ محمد اقبال روم کا دورہ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…