بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر کو پاکستان کے ریڈ لسٹ سے اخراج کی امید

datetime 11  اگست‬‮  2021 |

لندن(این این آئی) برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر معظم احمد خان نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ برطانوی حکومت 26 اگست کو سفری پابندی کی اپڈیٹ میں پاکستان کو ریڈ لسٹ سے خارج کردے گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے سفارتخانے کی پاکستان کو سفری پابندی کی فہرست میں برقر رکھنے کے معاملے پر برطانوی حکام کے ساتھ ہونے

والے رابطوں سے آگاہ کیا اور کہا کہ یہاں حکام کو تمام پہلوئوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پاکستان کے ڈیٹا کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے۔ساتھ ہی انہوں نے کووِڈ 19 کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کے فقدان کی رپورٹس کو بھی مسترد کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ برطانوی حکام نے پاکستان تک رسائی کے لیے جو سسٹم اپنایا وہ کووِڈ 19 کی درست صورتحال کی عکاسی نہیں کرتا اور اسے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ تنقید نہیں ہے لیکن ہمارا نقطہ نظر بتایا اہم ہے، رابطوں کا کوئی فقدان نہیں ہے، ہم ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔پاکستانی سفیر نے کہا کہ درحقیقت مجھے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے بات کرنے اور پاکستان میں ریڈ لسٹ میں برقر رکھنے کے معاملے پر ان کی توجہ مبذول کرانے کا موقع ملا جس سے پاکستان میں عوام اور تارکین وطن مایوس ہوئے ہیں جس پر انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے حوالے سے برطانوی حکام نے جن تحفظات کا اظہار کیا ان میں 2 اہم باتیں شامل ہیں، ایک کورونا وائرس کی نئی اقسام کی ناکافی جینوم نگرانی اور دوسرا کم تعداد میں ٹیسٹنگ، ڈیٹا کا فقدان ان کا بتایا گیا مسئلہ نہیں تھا۔ہائی کمشنر نے کہا کہ شاید یہ نسبتا کم ٹیسٹنگ کا معاملہ ہے لیکن ہمارے روزانہ ٹیسٹس کا نمونہ حجم باخبر فیصلے کرنے کے لیے کافی ہے۔انہوں نے کہا کہ یومیہ کیسز کے ڈیٹا کے ساتھ ساتھ برطانوی حکام سے یومیہ اموات کی تعداد پر بھی نظر ڈالنے کی درخواست کی گئی ہے، جسے چھپایا نہیں جاسکتا اور آکسیجن اور وینٹیلیٹرز کی ضرورت بھی پوشیدہ نہیں رکھی جاسکتی۔ان کا کہنا تھا کہ تاکہ برطانوی حکام کا فیصلہ ایک چیز پر منحصر نہ ہو بلکہ تمام پہلوں پر غور کر کے کیا جائے، ہم سمجھتے ہیں جب پاکستان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا تو تمام پہلوں کو مدِ نظر نہیں رکھاگیا۔معظم احمد خان نے کہا کہ برطانوی حکومت کا بنیادی مقصد متاثرہ مسافروں بالخصوص وائرس کی نئی اقسام کی آمد کو روکنا ہے اور میرے خیال میں پی سی آر ٹیسٹنگ اور اینٹیجن ٹیسٹس سے یہ ہدف پایا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ برطانیہ میں نئی اقسام کی آمد کے حوالے سے فکرمند ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری جینوم نگرانی ناکافی ہے، بالکل مزید کام کرنے کی بہت سے گنجائش ہوگی لیکن ہمارا ڈیٹا واضح تصویر پیش کرتا ہے اور ہمارا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان مین بیٹا ویریئنٹ تشویش کا باعث نہیں بلکہ برطانوی اور ڈیلٹا قسم ہے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…