جمعرات‬‮ ، 16 اپریل‬‮ 2026 

بال کیوں گرتے ہیں ،وجوہات سامنے آگئیں

datetime 28  جولائی  2015 |

بنگلورو(نیوز ڈیسک)بال گرنے اورگنجے پن سے لوگ اکثر پریشان رہتے ہیں اور اس سے نجات کے لیے طرح طرح جتن کرتے ہیں لیکن اب گرتے بالوں کی وجہ بھی سامنے آگئی ہے کیونکہ بھارت میں ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آ ئی ہے کہ پلاسٹک کے برتنوں اور تھیلیوں میں کھانے سے جسم میں داخل ہونے والے جراثیم انسان میں گنج پن کا سبب بنتے ہیں۔بھارت کے شہربنگلوروکے ہیئر لائن انٹرنیشنل ریسرچ اینڈ ٹریٹمنت سینٹر میں کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بال گرنے کی بیماری کا شکار 92 فیصد مریضوں کے خون میں پلاسٹک موجود تھا۔ تحقیق کے دوران ایک ہزار مریضوں کے خون کا نمونہ لیا گیا جن میں 430 خواتین اور 570 مرد شامل تھے ان افراد کے ٹیسٹ سے یہ بات سامنے آئی کہ ان کے خون میں بائی سفینول اے (بی پی اے) موجود تھا جو کہ ایک سنیتھیٹک مرکب ہے جو مختلف قسم کے پلاسٹک کے بنانے میں استعمال ہوتا ہے جب کہ ان مریضوں میں زیادہ تر وہ لوگ شامل تھے جو مختلف دفاتر میں کام کرتے اور دن میں 4 سے 6 مرتبہ کھانے اور پینے میں پلاسٹک کے برتن یا تھیلیاں استعمال کرتے ہیں۔تحقیق کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پلاسٹک (بی پی اے) نہ صرف بالوں کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ یہ عنصردل کی بیماریوں کا باعث بھی بنتا ہے جب کہ 70 فیصد میٹابولک کی خرابی کا آغازبالوں کے گرنے سے ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے ٹفن سے لے کرپانی کی بوتلوں، چائے کے کپ اورمائیکروویواوون کا کنٹینرسب ہی ہمارے خون میں بی پی اے کا باعث بنتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ پلاسٹک کے برتنوں کی جگہ اسٹیل، شیشے اورسرامکس کے برتنوں کا استعمال کیا جائے۔چیف کلینکل ڈائی ٹیشن اپولو اسپتال کے مطابق مائیکرو ویو میں گرم کی ہوئی غذائیں انسانی خون میں پلاسٹک کی موجودگی کا باعث بنتی ہیں کیونکہ جب آپ اپنے پلاسٹک کے کھانے کے ٹفن کے مائیکروویومیں رکھ کر گرم کرتے ہیں تو بی پی اے ہماری غذا میں شامل ہوکر خون میں داخل ہوجاتا ہے اسی طرح پانی کی بوتلیں جب دھوپ میں رکھی جاتی ہیں تو سورج کی روشنی سے وہ بھی غیر محسوس طریقے سے پگھل کر پانی میں شامل ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کھانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اسٹین لیس اسٹیل کے برتن محفوظ ترین راستہ ہے۔۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…