کووڈ سے متاثر بچے اس بیماری کو اپنے گھر میں پھیلا سکتے ہیں، تحقیق

4  اگست‬‮  2021

واشنگٹن(این این آئی)کووڈ سے متاثر بچے اس وائرس کو اپنے گھر میں دیگر افراد میں منتقل کرسکتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔تحقیق میں گزشتہ سال موسم گرما میں امریکی ریاست جارجیا میں ایک سلیپ اوے

کیمپ میں شریک کرنے والے بچوں سے ان کے گھروں میں کورونا کے پھیلا کی جانچ پڑتال کی گئی۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کیمپ میں شریک بچوں نے گھر واپسی پر کووڈ کو گھر والوں تک منتقل کردیا۔اس کیمپ میں شرکت کرنے والے 7 سے 19 سال کی عمر کے 224 افراد میں لیبارٹری ٹیسٹنگ میں کووڈ کی تشخیص ہوئی تھی۔ان مریضوں میں سے 88 فیصد میں علامات ظاہر ہوئیں اور ان کے رابطے میں 526 افراد میں آئے جن میں زیادہ تر والدین اور بہن بھائی تھے۔ان 526 سے 377 کے ٹیسٹ ہوئے اور 46 (12 فیصد) میں کووڈ کی تشخیص ہوئی جبکہ دیگر 2 کیسز کی تشخیص بعد میں ہوئی۔گھر والوں میں سے 10 (4فیصد( کو ہسپتال میں داخل ہونا پڑا اور وہاں ان کا قیام 5 سے 11 دن تک رہا۔متاثرہ گھر والوں میں سے 7 کی عمر 18 سال سے کم تھی اور ان میں سے کوئی بھی ہسپتال میں داخل نہیں ہوا۔ہسپتال میں داخل ہونے والے 4 مریض ان بچوں کے والدین یا بزرگ رشتے دار تھے جن کی عمریں 45 سے 80 سال کے درمیان تھی۔محققین نے کہا کہ تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ اسکول جانے کی عمر کے بچوں سے گھر کے افراد میں کورونا بہت آسانی سے پھیل سکتا ہے اور بالغ افراد کو بیماری کے باعث ہسپتال میں بھی داخل ہونا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جن گھروں میں بچوں سے لوگوں تک بیماری منتقل ہوئی وہاں گھر کے آدھے افراد اس بیماری کے شکار ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ چونکہ تحقیق میں ٹیسٹنگ اور نتائج لوگوں کے خود بتائے تھے، مگر یہ ممکن ہے کہ ان افراد نے اس وائرس کو مزید آگے پھیلایا ہو، تاہم تحقیق میں اس سوال پر کوئی کام نہیں کیا گیا۔تحقیق میں 17 جولائی سے 24 اگست 2020 تک اس کیمپ میں ریک ہونے والے افراد کی تفصیلات حاصل کی گئی تھیں اور نتائج میں ان گھر والوں کو شامل نہیں کیا گیا تھا جن میں کووڈ کی تشخیص بچوں کے کیمپ سے واپس لوٹنے کے 2 دن بعد ہوئی تھی۔تحقیق کے مطابق ایک تہائی بچوں میں علامات کیمپ میں ہی ظاہر ہوگئی تھیں جبکہ دو تہائی بچوں نے گھر میں سماجی دوری کو اختیار کیا، جس سے وہاں ممکنہ طور پر کووڈ کے پھیلا کی شرح کم ہوگئی۔محققین نے کہا کہ بچوں سے وائرس کے پھیلائو کے خطرے کو سماجی دوری اور فیس ماسک کے استعمال سے کم کیا جاسکتا ہے۔



کالم



رِٹ آف دی سٹیٹ


ٹیڈکازینسکی (Ted Kaczynski) 1942ء میں شکاگو میں پیدا ہوا‘…

عمران خان پر مولانا کی مہربانی

ڈاکٹر اقبال فنا کوہاٹ میں جے یو آئی کے مقامی لیڈر…

بھکارستان

پیٹرک لوٹ آسٹریلین صحافی اور سیاح ہے‘ یہ چند…

سرمایہ منتوں سے نہیں آتا

آج سے دس سال قبل میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ…

اللہ کے حوالے

سبحان کمالیہ کا رہائشی ہے اور یہ اے ایس ایف میں…

موت کی دہلیز پر

باباجی کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا تھا‘ ساہو…

ایران اور ایرانی معاشرہ(آخری حصہ)

ایرانی ٹیکنالوجی میں آگے ہیں‘ انہوں نے 2011ء میں…

ایران اور ایرانی معاشرہ

ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں ‘ ہم اگر…

سعدی کے شیراز میں

حافظ شیرازی اس زمانے کے چاہت فتح علی خان تھے‘…

اصفہان میں ایک دن

اصفہان کاشان سے دو گھنٹے کی ڈرائیور پر واقع ہے‘…

کاشان کے گلابوں میں

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے‘ یہ سارا…