جمعرات‬‮ ، 08 اکتوبر‬‮ 2026 

افغان سفیر کی بیٹی جب اغواء ہوئیں تو مارکیٹ کیا چیز خریدنے گئیں تھیں اور ملزمان ساتھ کیا تحریری پیغام چھوڑ کر گئے؟ صحافی کا بڑا دعویٰ

datetime 17  جولائی  2021 |

کابل/اسلام آباد (این این آئی) افغان وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں افغانستان کے سفیر نجیب اللہ علی خیل کی بیٹی کو گھر جاتے ہوئے اسلام آباد میں نامعلوم افراد نے اغواء اور تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ ہفتہ کو کابل میں جاری کئے گئے ایک بیان میں افغان وزارت خارجہ نے کہاکہ سلسلہ علی خیل کو جمعہ کو نامعلوم افرا دنے اس وقت اغواء کیا جب وہ گھر جارہی تھی،

رہائی کے بعد ان کو ایک ہسپتال میں طبی نگہداشت کیلئے رکھا گیا۔ بیان میں واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایک شرمناک فعل قرار دیا گیا اور اس عمل پر تشویش کا اظہار کیا۔بیان کے مطابق افغان حکومت کو اپنے سفارتکاروں، ان کے خاندان کے ممبران اور دیگر سٹاف کی سکیورٹی پر تشویش ہے۔ بیان میں پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ سفارتکاروں، ان کے خاندان اور دیگر کارکنوں کی حفاظت کیلئے بین الاقوامی قوانین کے مطابق اقدامات اٹھائے جائیں۔ بیان کے مطابق واقعہ کو پاکستانی وزارت خارجہ کے ساتھ اٹھایاگیا ہے اور ان سے واقعہ میں ملوث افراد کی گرفتاری اور ان کو سزا دینے کا مطالبہ کیاگیا ہے۔ دریں اثناء واقعہ کے فوراً بعد اسلام آبا د پولیس اور دیگر قانون نافذ کر نے والے اداروں نے فوری ایکشن لیتے ہوئے تحقیقات شروع کیں اور مغوی سے واقعہ کے بارے میں معلومات بھی حاصل کیں تاہم سلسلہ علی خیل نے پولیس کو واقعہ سے متعلق زیادہ تفصیلات نہیں بتائیں اور کہاکہ انہیں کچھ یاد نہیں آرہا ہے۔”این این آئی“ کو معلوم ہوا ہے کہ سلسلہ علی خیل اپنے چھوٹے بھائی کیلئے تحفہ خریدنے کیلئے ٹیکسی میں بلیو ایریا گئی تھیں اور جب وہ واپس آرہی تھیں تو ایک نامعلوم شخص اس کی گاڑی میں بیٹھ گیا اور باتوں کے بعد ان پر تشدد شروع کر دیا۔بعد میں ان کو ایف سیون کے قریب جہاں ان کی رہائش گاہ ہے

چھوڑ دیا گیا تاہم ہوش میں آنے کے بعد وہاں موجود ایک شخص نے ان کو بتایا کہ یہ ایف سیون کاعلاقہ ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ان کے ہاتھوں اور پاؤں کو باندھا گیا تھا۔ ہوش میں آنے کے بعد انہوں نے ٹیکسی لی اور گھر معلوم کر نے کیلئے ایف نائن پارک کے گیٹ نمبر تھری کے سامنے چلی گئیں اور وہاں سے حکمت نامی شخص کو

فون کیا جو بظاہر سفارتخانے کا اہلکار لگتا تھا جو سر کاری گاڑی میں وہاں سے لے گئے۔ پولیس کے مطابق اس کے دوپٹہ کے ساتھ پچاس روپے کا نوٹ باندھ دیا گیا تھا جس پرتحریر میں ان کے والد کو کمیونسٹ کہا گیا۔ پولیس حکام کاکہنا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات جاری ہے۔ دوسری جانب سینئر صحافی مبشر زیدی کا کہنا ہے کہ پیغام میں لکھا گیا تھا کہ اگلی باری تمہاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…