بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

بھارت کوافغانستان میں اپنی سرمایہ کاری ڈوبتی نظرآرہی ہے،میجر جنرل بابر افتخار

datetime 11  جولائی  2021 |

روالپنڈی (این این آئی) پاک فوج کے ترجمان،ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ امریکا کا افغانستان سے انخلا کچھ جلدی ہوگیا،امریکی بیسز کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا،پاکستان امن عمل میں سہولت کا ر کا کر دار ادا کرتا رہا ہ، افغانستان نے کیسے آگے بڑھنا ہے فیصلہ افغان عوام نے کرنا ہے،امریکہ نے تو افغانستان سے انخلا کرلیا ہے،

اب خطے کے اسٹیک ہولڈرز کو افغانستان کے فریقین کوہی مل بیٹھ کرمسئلے کا حل نکالنا ہوگا، سب جانتے ہیں داعش اور ٹی ٹی پی افغانستان میں موجود ہیں، افغانستان میں حالات خراب ہونے پرافغان سرحدسے پناہ گزینوں کی آمدکاخدشہ موجود ہوگا، پناہ گزینوں کی ممکنہ آمدپرتمام اداروں کو مل کرکام کرنے کی ضرورت ہوگی،بھارت کوافغانستان میں اپنی سرمایہ کاری ڈوبتی نظرآرہی ہے۔ ایک انٹرویومیں پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے افغانستان کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغان میں امن عمل کے بہت سے پہلوہیں، پاکستان نے خلوص نیت سے امن عمل آگے بڑھانے کی کوشش کی اور اس امن عمل میں سہولت کارکردارکرتارہا، افغانستان نے کیسے آگے بڑھنا ہے فیصلہ وہاں کے عوام نے کرنا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان سے کچھ خبریں آرہی ہیں، امریکہ نے افغان فوج کی تربیت پربہت پیسے خرچ کیے ہیں، افغان فوج نے کہیں مزاحمت کی یا کریں گے یہ دیکھناہوگا، تاہم اس وقت افغان فوج کی پیش رفت خا ص نہیں، اب تک کی خبروں کے مطابق طالبان کی پروگریس زیادہ ہے۔میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ امریکا نے تو افغانستان سے انخلا کرلیا ہے، اب خطے کے اسٹیک ہولڈرز کو افغانستان کے فریقین کوہی مل بیٹھ کرمسئلے کا حل نکالنا ہوگا،

پاکستان کو ہی اس مسئلے میں موردالزام ٹھہرایا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان نے پوری سنجیدگی سے افغان امن عمل آگے بڑھانے کی کوشش کی، کافی عر صے سے کہہ رہے ہیں افغانستان میں حکومت کا فیصلہ وہاں کے عوام نے کرنا ہے اور بالآخرافغان عوام نے طے کرناہوگاکہ وہ کیسی افغان حکومت چاہتے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے

کہا کہ افغانستان میں بندوق 20سال میں فیصلہ نہیں کرسکی، افغانستان میں تمام دھڑے بھی جنگ سے تنگ آچکے ہیں۔پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے حوالے سے میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پناہ گزینوں سے متعلق تمام خدشات موجود ہیں، افغانستان سرحد پر 90 فیصد سے زائد حصے پر باڑ لگ چکی ہے اور بارڈر سے متعلق ایک

لائحہ عمل طے ہوچکا ہے۔انھوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں داعش اور ٹی ٹی پی افغانستان میں موجود ہیں، افغانستان میں خانہ جنگی کے امکان کے پیش نظرتیاری کی ہیں اور افغانستان سرحد سے حملوں سے متعلق معاملات افغان حکومت سے اٹھائے ہیں۔بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ اس وقت ہمارے بارڈر

مینجمنٹ کے معاملات بہت بہترہیں، باڑ لگانے کے دوران افغانستان سے ہم پر حملے ہوتے رہے ہیں، افغانستان میں حالات خراب ہونے پرافغان سرحدسے پناہ گزینوں کی آمدکاخدشہ موجود ہوگا، پناہ گزینوں کی ممکنہ آمدپرتمام اداروں کو مل کرکام کرنے کی ضرورت ہوگی۔میجر جنرل بابر افتخار نے واضح کیا کہ ہم نے اپنی سرزمین کسی

کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینی، جیسیانتظام ہم نے کیے وہ دوسری طرف سے بھی ہونے چاہیے تھے جونہیں ہوئے، سرحد پر انتظامات کودوسری طرف سے ایئرٹائٹ نہیں رکھاگیا۔امریکی انخلا سے متعلق انہوں نے کہاکہ تمام اسٹیک ہولڈرز امریکا کا افغانستان سے ذمہ دارانہ انخلا چاہتے تھے، امریکا کو ذمے دار انخلا کرنا چاہیے تھا،

امریکا کا افغانستان سے انخلا کچھ جلدی ہوگیا، امریکی بیسز کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا۔بھارت کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کی افغانستان میں سرمایہ کاری نیک نیتی سے ہوتی توپریشان نہ ہوتے، آج بھارت کوافغانستان میں اپنی سرمایہ کاری ڈوبتی نظرآرہی ہے، پاکستان نے پوری کوشش کہ مسئلے کا حل بغیر لڑائی پرامن طریقے سے ہوسکے۔میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ بھارت دنیا کو بتانا چاہتا ہے افغانستان کے

مسائل کی وجہ پاکستان ہے، ہم چاہتے ہیں افغانستان کے مسئلے کا حل بغیرتشدد ہو، افغانستان میں ہماراکوئی پسندیدہ نہیں ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم امن عمل کیلئے کوشش کرتے رہے اور کرتے رہیں گے، دنیاکوپوری طرح معلوم ہوچکاہے افغانستان مسئلے کاامن کیساتھ میزپربیٹھ کر حل نکالنا چاہئے، افغانستان میں بیس سال سے بندوق فیصلہ نہیں کرسکی، ایک بات سمجھ لینی چاہیے کہ پاکستان افغان امن عمل میں سہولت کار ہے ضامن نہیں۔میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ افغانستان میں سول وار ہوئی تو کسی کا بھلا نہیں ہوگا۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…