واشنگٹن(نیوزڈیسک)سائنسدانوں نے ایک ایسی دوا دریافت کرلی ہے جس سے دماغی مرض الزائمر کا ابتدائی اسٹیجز میں علاج ممکن ہوسکتا ہےسولانیزومیب نامی دوا مونوکلونل صحت بخش لحمیہ ہے جو کہ دماغ میں الزائمر مرض کو بننے سے روکتا ہے۔اس مرض سے دنیا بھر کے 440 لاکھ افراد متاثر ہیں اور ان کے لیے کسی قسم کا علاج بھی موجود نہیں۔سولانیزومیب 2012ء میں کلینکل ٹرائلز میں چینی کی گولی طور پر استعمال کی جارہی تھی۔نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کی 2014ء کی اشاعت میں کہا گیا ہے کہ اس مرض کے علاج کے لیے ہونے والے ابتدائی تجربات میں جن مریضوں کو چنا گیا ان میں ایک چوتھائی کو الزائمر نامی مرض نہیں تھا بلکہ وہ ایک اور دماغی مرض ’شیزو فرینیا‘ میں مبتلہ تھے۔بعد ازاں سائنس دانوں نے ایسے مریضوں کو تجربات کے لیے چنا جن میں الزائمر کا مرض تشخیص ہوچکا تھا۔الزائمرایسوسی ایشن کی واشنگٹن میں ہونے والی سالہ کانفرنس میں سائنس دانوں کی اس ریسرچ ٹیم کے سربراہ ڈوگ براؤن کا کہنا تھا کہ ’آج کے تجربات ہمیں رہنمائی فراہم کرتے ہیں کہ جن افراد میں الزائمر مرض کی ابتدا میں ہی تشخیص ہوجائے تو اس مرض کو پھیلنے سے روکنا ممکن ہے۔‘انھوں نے مزید کہا کہ تاہم اس حوالے سے مزید ریسرچ ہونا ضروری ہے تاکہ اس مرض کا مکمل خاتمہ کیا جاسکے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
گریٹ گیم
-
ٹرمپ ایران سے معاہدے کیلئے پاکستان آنے کے خواہش مند ہیں مگر انہوں نے ایک شرط بھی رکھی ہے: حامد میر...
-
شین وارن کی موت کے پیچھے کس کا ہاتھ؟ بیٹے نے 4 سال بعد نام بتا دیا
-
لائیو شو میں غیر اخلاقی حرکت پر فضا علی کا ردعمل سامنے آگیا
-
بجلی صارفین ہوشیار! شام 5 سے رات 1 بجے کے دوران لوڈشیڈنگ کا نیا شیڈول آگیا
-
درجنوں سیاسی خاندان تحریک انصاف میں شامل
-
پاکستان کے اہم علاقے سے سونانکل آیا ، مقامی آبادی کی بڑی تعداد جمع ہو گئی
-
ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی مالیت کیا ہے؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
اختیارات کے ناجائز استعمال اور خاتون سے ناجائز تعلقات قائم کرنے پر ڈی ایس پی نوکری سے فارغ
-
پہلے خریدیں بعد میں پے کریں ، مشہور کمپنی علی بابا کا پاکستان کیلئے اہم اعلان ، لائسنس جاری ہو گیا
-
توانائی کے حوالے سے پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری
-
معروف ریسٹورنٹ سے مضرِ صحت گوشت برآمد ، سیل کر دیا گیا
-
گرمی کے بعدبارشوں کی پیشگوئی، مختلف اضلاع میں الرٹ جاری
-
سرکاری ملازمین کے لیے ایک اور ’’ہاؤسنگ کالونی‘‘ منظور، کون ہوگا اہل؟



















































