پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

کالاباغ ڈیم،عمران خان کے بیان پر اے این پی غضبناک

datetime 22  جولائی  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر غلام احمد بلور نے کالاباغ ڈیم کے حوالے سے عمران خان کے بیان کو ملک توڑنے کی سازش قرار دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین کو مناظرے کےلئے چیلنج کردیا۔ عمران خان نے کالا باغ ڈیم بنانے کی بات کرکے تین صوبائی اسمبلیوں کی قراردادوں کا مذاق اڑایا ہے۔گزشتہ روز پشاو رپریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چترال میں سیلاب کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے، صوبائی حکومت کو سیلاب کے سدباب کےلئے اقدامات اٹھانے چاہئے تھے۔ ان کا کہناتھاکہ اگر کالاباغ ڈیم بنا تو خیبر پختونخوا کے چاراضلاع ڈوب جائےنگے جس میں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا شہر بھی شامل ہے۔اگر حکومت پنجاب کو سیلاب سے بچانا چاہتی ہے تو دریائے راوی‘ جہلم ‘ ستلج اور دریائے چناب پر ڈیم تعمیر کرائے کیونکہ سیلاب انہیں دریاوں پر آتے ہیں نہ کہ دریائے سندھ میں۔ دریائے سند ھ کا پانی روکنے کےلئے داسو اور باشا ڈیم بنائے جائے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور پنجاب نے تبدیلی کا نعرہ لگا کر پختونوں کو دھوکا دیا جس کاثبوت عمران خان کا بیان ہے، عمران خ ©ان نہ پختون ہیں نہ ہی پاکستانی ، وہ صرف ایک پنجابی ہے جو پختونوں کا دشمن ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور سند ھ کے عوام کالا باغ ڈیم کو بننے نہیں دینگے۔ انہوں نے کہا کہ آفتاب احمد خان شیرپاو ‘ جماعت اسلامی اور دیگر سیاسی جماعتیں اپنا موقف واضح کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…