بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

سرسید اور ملت ایکسپریس میں خوفناک تصادم،50 سے زائد افراد جاں بحق،سینکڑوں زخمی

datetime 7  جون‬‮  2021 |

سکھر(آن لائن)گھوٹکی اسٹیشن کے قریب کراچی جانے والی سیر سید ایکسپریس ٹریک پر موجود ملت ایکسپریس سے ٹکرا گئی، 50 سے زائد افراد جاں بحق، لاشوں کے ڈھیر لگ گئے،سینکڑو ں افراد زخمی، افواج پاکستان سمیت دیگر رضاکاروں تنظیموں کی امداد کاروائیاں، اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ، مقامی افراد عطیہ خون دینے

اسپتال پہنچ گئے، ٹرین حادثے میں 14مسافر بوگیاں متاثر، تین بوگیاں مکمل طور پر تباہ، ٹریک کو کلئیر کرنے کا کام جاری، ہیوی مشینری طلب کر لی، محکمہ ریلوے کے افسران جائے حادثے پر موجود، ڈپٹی کمشنر گھوٹکی نے 50 سے زائد افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کر دی، راستہ خراب ہونے کی صورت میں امدادی کاروائیاں میں مشکلات کا سامنا، تفصیلات کے مطابق گھوٹکی اسٹیشن کے قریب کراچی جانے والی سرسید ایکسپریس ٹریک پر موجود ملت ایکسپریس سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں دونوں ٹرینوں کی 14سے زائد بوگیاں پٹریوں سے اتر گئی جس میں سے 3 بوگیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئی، حادثے کے باعث 50 سے زائد مسافر جاں بحق جبکہ سینکڑوں مرد، خواتین، بچے، بوڑھے، جوان شدید زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر مقامی اسپتالوں میں علاج کیلئے منتقل کیا جہاں ڈاکٹروں نے زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی حادثے کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر گھوٹکی عثمان عبداللہ نے زرائع ابلاغ کے نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے حادثے میں 50مسافروں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی اور بتایا کہ 80سے زائد مسافر زخمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کیلئے مقامی اسپتال منتقل کردیا گیا، حادثے کی اطلاع ملتے ہیں ایدھی،جے یو آئی و دیگر سماجی تنظیموں کے رضاکاروں سمیت افواج پاکستان،

رینجرز، پولیس سمیت دیگر سیکورٹی فورسز کے جوان بھی جائے وقوعہ پر پہنچے اور امداد کاروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جبکہ محکمہ ریلوئے کی جانب سے ٹریک کی بحالی اور دیگر امدادی کاموں کے سلسلے میں ریلیف ٹرین بھی روانہ کی گئی جبکہ انتظامیہ کی جانب سے امداد کاموں کو جلد مکمل کرنے کیلئے ہیوی مشینری،

کٹر و دیگر سامان منگوایا گیا، راستہ خراب ہونے کی وجہ سے مشینری منتقل کرنے اور امداد ی کاروائیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ذرائع کے مطابق ملت ایکسپریس میں مجموعی طور پر706مسافر سوارتھے، حادثے کا شکار سر سید ایکسپریس میں 504 مسافر سوار تھے، بدنصیب مسافروں پر صبح ساڑھے پانچ بجے قیامت ٹوٹی جب وہ پرسکون نیند میں تھے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…