ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

سرسید اور ملت ایکسپریس میں خوفناک تصادم،50 سے زائد افراد جاں بحق،سینکڑوں زخمی

datetime 7  جون‬‮  2021 |

سکھر(آن لائن)گھوٹکی اسٹیشن کے قریب کراچی جانے والی سیر سید ایکسپریس ٹریک پر موجود ملت ایکسپریس سے ٹکرا گئی، 50 سے زائد افراد جاں بحق، لاشوں کے ڈھیر لگ گئے،سینکڑو ں افراد زخمی، افواج پاکستان سمیت دیگر رضاکاروں تنظیموں کی امداد کاروائیاں، اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ، مقامی افراد عطیہ خون دینے

اسپتال پہنچ گئے، ٹرین حادثے میں 14مسافر بوگیاں متاثر، تین بوگیاں مکمل طور پر تباہ، ٹریک کو کلئیر کرنے کا کام جاری، ہیوی مشینری طلب کر لی، محکمہ ریلوے کے افسران جائے حادثے پر موجود، ڈپٹی کمشنر گھوٹکی نے 50 سے زائد افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کر دی، راستہ خراب ہونے کی صورت میں امدادی کاروائیاں میں مشکلات کا سامنا، تفصیلات کے مطابق گھوٹکی اسٹیشن کے قریب کراچی جانے والی سرسید ایکسپریس ٹریک پر موجود ملت ایکسپریس سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں دونوں ٹرینوں کی 14سے زائد بوگیاں پٹریوں سے اتر گئی جس میں سے 3 بوگیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئی، حادثے کے باعث 50 سے زائد مسافر جاں بحق جبکہ سینکڑوں مرد، خواتین، بچے، بوڑھے، جوان شدید زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر مقامی اسپتالوں میں علاج کیلئے منتقل کیا جہاں ڈاکٹروں نے زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی حادثے کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر گھوٹکی عثمان عبداللہ نے زرائع ابلاغ کے نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے حادثے میں 50مسافروں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی اور بتایا کہ 80سے زائد مسافر زخمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کیلئے مقامی اسپتال منتقل کردیا گیا، حادثے کی اطلاع ملتے ہیں ایدھی،جے یو آئی و دیگر سماجی تنظیموں کے رضاکاروں سمیت افواج پاکستان،

رینجرز، پولیس سمیت دیگر سیکورٹی فورسز کے جوان بھی جائے وقوعہ پر پہنچے اور امداد کاروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جبکہ محکمہ ریلوئے کی جانب سے ٹریک کی بحالی اور دیگر امدادی کاموں کے سلسلے میں ریلیف ٹرین بھی روانہ کی گئی جبکہ انتظامیہ کی جانب سے امداد کاموں کو جلد مکمل کرنے کیلئے ہیوی مشینری،

کٹر و دیگر سامان منگوایا گیا، راستہ خراب ہونے کی وجہ سے مشینری منتقل کرنے اور امداد ی کاروائیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ذرائع کے مطابق ملت ایکسپریس میں مجموعی طور پر706مسافر سوارتھے، حادثے کا شکار سر سید ایکسپریس میں 504 مسافر سوار تھے، بدنصیب مسافروں پر صبح ساڑھے پانچ بجے قیامت ٹوٹی جب وہ پرسکون نیند میں تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…