ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

جہانگیر ترین گروپ کی ممکنہ بے وفائی کا ڈر، حکومت شوکت ترین کو سینیٹر بنانے میں تذبذب کا شکار

datetime 6  جون‬‮  2021 |

اسلام آباد( آن لائن ) وفاقی وزیر خزانہ کا درجہ پانے والے شوکت ترین کے پاس اکتوبر تک وقت ہے اور جہانگیر ترین گروپ کی ممکنہ بے وفائی کے ڈر سے حکومت شوکت ترین کو سینیٹر بنانے میں تذبذب کا شکار ہوگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق جہانگیر ترین گروپ کی ممکنہ بے وفائی کے بعد پی ٹی آئی حکومت کو ڈر ہے کہ کہیں حفیظ شیخ

کے بعد پھر شوکت ترین بھی سینیٹ الیکشن ہار نہ جائیں، اور اسی وجہ سے حکومت وزیر خزانہ شوکت ترین کو سینیٹر بنانے میں تذبذب کا شکار ہوگئی ہے۔ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل الیکشن ایکٹ 2017 ترمیمی آرڈیننس وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد بھی جاری نہ ہوسکا، بجٹ اجلاس میں ترین گروپ کی حمایت یا مخالفت کے بعد آرڈیننس بارے حتمی فیصلہ ہوگا، جب کہ اپریل میں وفاقی وزیر خزانہ کا درجہ پانے والے شوکت ترین کے پاس اکتوبر تک وقت ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ آرڈیننس کے اجراء سے مسلم لیگ (ن) کے اسحاق ڈار کی سینیٹر شپ ختم ہو جائے گی، اور اسی خطرے کے پیش نظر چوہدری نثار نے حلف اٹھایا، اسحاق ڈار کے ڈی سیٹ ہونے پر الیکشن کمیشن 45 دن کے اندر پنجاب سے سنیٹ کی نشست پر ضمنی انتخاب کرانے کا پابند ہوگا۔ حکومت نے جمعرات کو سنیٹ اجلاس ملتوی ہونے اور جمعے کو قومی اسمبلی اجلاس بلانے کے درمیان بھی آرڈیننس کا اجرا نہیں کیا، اور اب بجٹ اجلاس کے باعث الیکشن ترمیمی آرڈیننس کا معاملہ مزید التواء کا شکار ہوگیا ہے، کیوں کہ آرڈیننس کا اجراء قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران نہیں ہوسکتا، قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 30 جون تک چلے گا، اور آرڈیننس بجٹ اجلاس کے بعد ہی جاری کیا جاسکے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت شوکت ترین کو سینیٹر بنوانے کے حوالے سے مختلف آپشنز اور حکمت عملی پرغور کررہی ہے، جب کہ حکومت کی آئینی و قانونی ٹیم نے وزیراعظم کو تمام امور اور قانونی پہلوؤں بارے بریفنگ دے دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…