جمعہ‬‮ ، 17 اپریل‬‮ 2026 

ٹی وی کے ذریعے ہر گھر میں اذان کی آواز پہنچ جاتی ہے مساجد کے لائوڈ سپیکرز کی آواز اونچی رکھنے کی ضرورت نہیں سعودی وزیر مذہبی امور نے اہم بیان دیدیا

datetime 3  جون‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی وزیر مذہبی امور عبداللطیف آل الشیخ نے مساجد کے لاڈئو سپیکرز کی آواز دھیمی رکھنے کی حمایت کر دی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عبداللطیف الشیخ نے مساجد میں لاوڈ سپیکرز کی آواز کو کم کرنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ

نمازیوں کو اذان کی آواز کا انتظار کرنے کی بجائے مقررہ وقت پر مسجد پہنچ جانا چاہئے۔انہوں نے اپنے جاری ویڈیو بیان میں فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نمازیوں کو اذان کی آواز کا انتظار کرنے کی بجائے مقررہ وقت پر مسجد پہنچ جانا چاہئے۔مذہبی امور کے وزیر نے مزید کہا کہ ٹیلی وژن کے ذریعے ہر گھر میں اذان کی آواز پہنچ جاتی ہے اور وقت دیکھنے کی سہولت بھی سب کے پاس ہے اس لیے بہت تیز آواز میں لاوڈ سپیکر کے استعمال کی ضرورت نہیں۔جس سے بچے اور بیمار بزرگوں کو پریشانی ہوتی ہے۔وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ مساجد کی انتظامیہ نے بیرونی لاوڈ اسپیکروں کے استعمال کے حوالے سے وضع کردہ طریقہ کار پر فوری طور پرعمل درآمد شروع کردیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارت مذہبی امور سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارم کے ذریعے مساجد میں لاوڈ اسپیکرکے استعمال کے حوالے سے جاری کردہ نئے احکامات پرعمل درآمد کی نگرانی کررہی ہے تاکہ نمازیوں کو خشوع وخضوع کی ہرممکن سہولت فراہم کی جا سکے۔



کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…