پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

سونا مزید مہنگا ہو گیا

datetime 31  مئی‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)مقامی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونا 200روپے مہنگا ہوکر ایک لاکھ 12ہزار300روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔صراف اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت ایک ڈالرکی کمی سے 1903ڈالر ہوگئی جب کہ اس کے برعکس مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت 200روپے کے اضافے سے ایک لاکھ 12ہزار300روپے

اور دس گرام سونے کی قیمت172روپے کے اضافے سے 96ہزار280روپے ہوگئی جب کہ چاندی کی فی تولہ قیمت1480روپے مستحکم رہی۔واضح رہے کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران عالمی مارکیٹ میں22ڈالر کے اضافے سے فی اونس سونا1904ڈالر کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا جس کے باعث زیر تبصرہ مد ت کے دوران ملکی صرافہ مارکیٹوں میں بھی سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ۔آل پاکستان سپریم کونسل جیولرز ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ملکی صرافہ مارکیٹوں میں ایک تولہ سونا2700 روپے مہنگا ہو گیا جس سے ایک تولہ سونے کی قیمت1لاکھ9ہزار400روپے سے بڑھ کر1لاکھ12ہزار100روپے ہو گئی اسی طرح2315روپے کے اضافے سے دس گرام سونے کی قیمت 93ہزار793روپے سے بڑھ کر96ہزار108روپے ہو گیا ۔رپورٹ کے مطابق ہفتہ کو عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا9ڈالر مہنگا ہوا جس کے بعد ملکی صرافہ مارکیٹوں میں ایک تولہ سونے کی قیمت میں300روپے اور دس گرام سونے کی قیمت میں258روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…