پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

”ہمارے ساتھ سیاست نہیں انصاف کیا جائے” جہانگیر ترین، نذیر چوہان معاملے پر بھی بول پڑے

datetime 31  مئی‬‮  2021 |

لاہور (این این آئی) سیشن کورٹ اور بینکنگ جرائم کورٹ نے سینئر سیاستدان جہانگیر ترین اور ان کے صاحبزادے علی ترین کی عبوری ضمانت میں 11جون تک توسیع کر دی ۔ جہانگیر ترین اپنے گروپ کے اراکین اسمبلی کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے جہاں کارکنوں اور حامیوں نے ان پر گل پاشی کی۔جہانگیر ترین اپنے صاحبزادے علی ترین اور وکلاء کے

ہمراہ جسٹس حامد حسین کی عدالت میں پیش ہوئے ۔فاضل جج نے استفسار کیا کہ پچھلے15دن میں ایف آئی اے نے کیا تحقیقات کی ہیں، جس پر ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے نے بتایا کہ ادارے کے ایک آفیسر کا ٹرانسفر ہوگیا ہے۔عدالت نے اظہاربرہمی کرتے ہوئے کہا کہ اہم نوعیت کا کیس ہے عدالت سے پوچھے بغیر کیوں تفتیش تبدیل کی گئی، کیوں تبادلہ کیا گیا؟ عدالت نے تبادلہ کرنے والے آفیسر اور تفتیشی کو تفتیش مکمل نہ کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کر دیئے۔ایڈیشنل سیشن جج حامد حسین نے ریمارکس دیئے کہ میں اس حوالے سے اعلی افسران کو لکھوں گا ۔عدالت نے استفسار کیا یہ معاملہ کب سے چل رہا ہے ،اب تک تحقیقات کیوں مکمل نہیں کی گئیں ،اگر آپ کا ادارہ تفتیش نہیں کرنا چاہتا تو بتائے ۔ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ ہم کیس پرحتمی دلائل کیلئے تیار ہیں۔ عدالت نے عبوری ضمانت میں11جون تک توسیع کردی ۔بینکنگ جرائم کورٹ نے بھی جہانگیر ترین اور علی ترین کی عبوری ضمانت میں 11جون تک توسیع کرتے

ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی۔سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے بیرسٹر علی ظفر کو تفتیش کیلئے مقرر کیا تھا،بیرسٹرعلی ظفر کی عزت کرتا ہوں ،انہوں نے کیس پر بڑی محنت کی اورتفتیش کو مکمل کر لیا ،امید تھی رپورٹ منظر عام پر آ جائے گی مگررپورٹ ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ قیاس آرائیاں ہیں کہ علی ظفر نے زبانی رپورٹ وزیراعظم کو دیدی، قیاس آرائیاں ہیں کہ رپورٹ ہمارے حق میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انصاف مانگنے نکلے تھے ، بہت دن گزر گئے ،اب تک انصاف مل جانا چاہیے تھا،زیادہ وقت گزر جائے تو انصاف نہیں ملتا ، میری کسی حکومتی عہدیدار سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ میری کسی

حکومتی عہدیدار سے ملاقات نہیں ہوئی، اپنا کیس لڑرہے ہیں اور علی ظفر کی رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں، ہمارے ساتھ سیاست نہ کی جائے، انصاف کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ علی ظفر نے اپنی رپورٹ میں جو بھی کہا ہے اس پرایکشن لیا جائے، کچھ ایسی باتیں معلوم ہیں جومیڈیا کے سامنے نہیں بتانا چاہتا ،وقت آنے پر بتائوں گا۔انہوں نے کہا کہ مجھ پر بے

بنیاد الزامات لگائے گئے ،ہم عبوری ضمانت کے لیے عدالت میں پیش ہوئے لیکن ہمیں ہر پیشی پر نئی تاریخ مل جاتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نذیر چوہان پر مقدمہ ہوا اس سے بات بگڑی ہے۔نذیر چوہان نے کہا کہ شہزاد اکبر کی جانب سے درج مقدمے میں ضمانت نہیں کرائوں گا ، اتوار کے روز اسی غرض سے گرفتاری دینے تھانے گیا تھا۔قبل ازیں جہانگیر ترین کی رہائشگاہ پر گروپ کے اراکین کا اجلاس ہوا جس میں نذیر چوہان کے خلاف مقدمے کے اندراج سمیت مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ نذیر چوہان کا بھرپو رساتھ دیا جائے گا او رڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…