بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

منرل واٹر کے نام پر بعض کمپنیاں جان لیوا بیماریاں بانٹ رہی ہیں

datetime 18  جولائی  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) ملک میں آج کے جدید دور میں بھی پینے کے صاف پانی کے نام پر بند بوتل (منرل واٹر) کے بعض برانڈ لوگوں میں جان لیوا بیماریاں بانٹ رہی ہیں۔ پاکستان آبی وسائل کی تحقیقاتی کونسل (پی سی آر ڈبلیو آر ) نے اپنی موجودہ سہ ماہی اپریل تا جون 2015ء کی رپورٹ بھی جاری کر دی ہے جس کے مطابق اپریل تا جون 2015 ء کی سہ ماہی میں اسلام آباد ،راولپنڈی، ٹنڈوجام، لاہور، بہاولپور،کوئٹہ، پشاور، سرگودھا، سیالکوٹ، فیصل آباد، ساہیوال اور کراچی سے بوتل بند/ منرل پانی کے 107 برانڈز کے نمونے حاصل کئے گئے ، ان نمونوں کا پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے ) کے تجویز کردہ معیار کے مطابق تجزیہ کیا گیا۔ اس تجزیہ کے مطابق 17برانڈز(الخیر، پینیو، سکائی سٹار، نعمت، ایکوا نیشنل ، زندگی پلس، ڈیز پیور، نیشن، این جی فریش واٹر، میزان پیور لائف، الحیدرپیور، بلیو، سوپر نیچرل، آئسبرگ، جُمیرح، پیراڈائز اور افرا ) برانڈز کے نمونے جراثیمی اور کیمیائی طور پر آلودہ پائے گئے۔ ان میں7 نمونوں (الخیر ، پینو، ڈیز پیور، سکائی سٹار، نعمت، ایکوا نیچرل اور نیشن) میں سنکھیا کی مقدار سٹینڈرڈ سے زیادہ (16 پی پی بی سے لیکر 69 پی پی بی) تک تھی، پینے کے پانی میں اس کی حد مقدار صرف 10 پی پی بی تک ہونی چاہئے ۔ پینے کے پانی میں سنکھیا کی زیادہ مقدار کی موجودگی بے حد مضرِ صحت ہے۔ کیونکہ اس کی وجہ سے پھیپڑوں ، مثانے، جلد، پراسٹیٹ، گردے، ناک اور جگر کا کینسر ہو سکتا ہے اس کے علاوہ بلڈ پریشر ، شوگر، گردے اور دل کی بیماریاں، پیدائشی نقائص اور بلیک فُٹ جیسی بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں جبکہ 6 آلودہ برانڈز (بلیو، سوپر نیچرل، آئس برگ، جُمرح، پیراڈائزاور افرا) جراثیم سے آلودہ پائے گئے جن کی وجہ سے ہیضہ، ڈائریا، پیچش، ٹائیفائیڈ اور یرقان کی بیماریاں ہو سکتی ہیں جبکہ باقی برانڈز کے نمونوں میں سوڈیم اور پوٹاشیم کی مقدار پی ایس کیو سی اے کی حدِ مقدار سے زیادہ پائی گئی
(بشکریہ ۔جنگ)



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…