اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

منرل واٹر کے نام پر بعض کمپنیاں جان لیوا بیماریاں بانٹ رہی ہیں

datetime 18  جولائی  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) ملک میں آج کے جدید دور میں بھی پینے کے صاف پانی کے نام پر بند بوتل (منرل واٹر) کے بعض برانڈ لوگوں میں جان لیوا بیماریاں بانٹ رہی ہیں۔ پاکستان آبی وسائل کی تحقیقاتی کونسل (پی سی آر ڈبلیو آر ) نے اپنی موجودہ سہ ماہی اپریل تا جون 2015ء کی رپورٹ بھی جاری کر دی ہے جس کے مطابق اپریل تا جون 2015 ء کی سہ ماہی میں اسلام آباد ،راولپنڈی، ٹنڈوجام، لاہور، بہاولپور،کوئٹہ، پشاور، سرگودھا، سیالکوٹ، فیصل آباد، ساہیوال اور کراچی سے بوتل بند/ منرل پانی کے 107 برانڈز کے نمونے حاصل کئے گئے ، ان نمونوں کا پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے ) کے تجویز کردہ معیار کے مطابق تجزیہ کیا گیا۔ اس تجزیہ کے مطابق 17برانڈز(الخیر، پینیو، سکائی سٹار، نعمت، ایکوا نیشنل ، زندگی پلس، ڈیز پیور، نیشن، این جی فریش واٹر، میزان پیور لائف، الحیدرپیور، بلیو، سوپر نیچرل، آئسبرگ، جُمیرح، پیراڈائز اور افرا ) برانڈز کے نمونے جراثیمی اور کیمیائی طور پر آلودہ پائے گئے۔ ان میں7 نمونوں (الخیر ، پینو، ڈیز پیور، سکائی سٹار، نعمت، ایکوا نیچرل اور نیشن) میں سنکھیا کی مقدار سٹینڈرڈ سے زیادہ (16 پی پی بی سے لیکر 69 پی پی بی) تک تھی، پینے کے پانی میں اس کی حد مقدار صرف 10 پی پی بی تک ہونی چاہئے ۔ پینے کے پانی میں سنکھیا کی زیادہ مقدار کی موجودگی بے حد مضرِ صحت ہے۔ کیونکہ اس کی وجہ سے پھیپڑوں ، مثانے، جلد، پراسٹیٹ، گردے، ناک اور جگر کا کینسر ہو سکتا ہے اس کے علاوہ بلڈ پریشر ، شوگر، گردے اور دل کی بیماریاں، پیدائشی نقائص اور بلیک فُٹ جیسی بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں جبکہ 6 آلودہ برانڈز (بلیو، سوپر نیچرل، آئس برگ، جُمرح، پیراڈائزاور افرا) جراثیم سے آلودہ پائے گئے جن کی وجہ سے ہیضہ، ڈائریا، پیچش، ٹائیفائیڈ اور یرقان کی بیماریاں ہو سکتی ہیں جبکہ باقی برانڈز کے نمونوں میں سوڈیم اور پوٹاشیم کی مقدار پی ایس کیو سی اے کی حدِ مقدار سے زیادہ پائی گئی
(بشکریہ ۔جنگ)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…