منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

پاکستانی آم کی یورپ کو برآمد پر پابندی کا خدشہ بڑھ گیا

datetime 17  جولائی  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) پاکستان سے یورپ کو برآمد کردہ آم کی تین کنسائمنٹس مسترد ہونے کے بعد یورپی یونین کی جانب سے پاکستانی آم پر پابندی کا خطرہ شدت اختیار کرگیا ہے۔یورپی یونین کی جانب سے آم کے معیار اور فروٹ فلائی سے پاک آم کی ایکسپورٹ کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کو گزشتہ سال کڑی وارننگ جاری کی گئی تھی جس میں پاکستان کی یورپ کو ارسال کردہ پانچ کنسائمنٹ مسترد کیے جانے کی صورت میں پاکستانی آم پر پابندی کا الٹی میٹم دیا گیا تھا پاکستان پلانٹ پروٹیکشن اور پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز امپورٹرز ایسوسی ایشن کی کوششوں سے گزشتہ سیزن پاکستان سے یورپی یونین کو آم کی ایکسپورٹ کے لیے قرنطینہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا گیا جس کے نتیجے میں پاکستان نے یورپی یونین کی جانب سے پابندی کے چیلنج کا کامیابی سے سامنا کیا۔تاہم رواں سیزن اب تک یورپ اور برطانیہ کو ایکسپورٹ کی جانے والی تین کنسائمنٹ مسترد ہوچکی ہیں جس کے بعد پاکستان کے لیے صرف دو کنسائمنٹس کی لائف لائنز باقی رہ گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ای یوریپڈ الرٹ سسٹم نے اپنے نوٹس نمبر 94760 کے ذریعے ا?گاہ کیا ہے کہ 14 جون کو 5135 کلوگرام ا?م کی شپمنٹ جو دھرما ٹریڈنگ ہولنڈا، نیدرلینڈ کو کی گئی تھی، آموں کے سڑنے کی وجہ سے اس پر نیدرلینڈ میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اسی طرح سسٹم کے نوٹس 95380 کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ 3050 کلوگرام کی شپمنٹ جویوکے روانہ کی گئی تھی آموں کے گلنے سڑنے اور سڑنے والے پھلوں پر لگنے والی مکھی کے زندہ لاروے کی وجہ سے روک لیا گیا اور یوکے کی اتھارٹی (ڈی ای ایف آر اے) کے حکام نے اسے ضائع کیا۔ اسی طرح سسٹم کے نوٹس 95393 کے مطابق 15 جولائی کو 1140 کلو گرام کی آموں کی برآمدات جویو کیلئے روانہ کی تھی بھی اسی بنیاد پر روک لی گئی اور اسے بھی یوکے کی اتھارٹی (ڈی ای ایف آر اے) کے حکام نے ضائع کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ متعلقہ حکام کی ذمے داری ہے کہ صرف ایسی برآمدات کی اجازت دی جائے جس کا مکمل معائنہ کیا گیا ہو اور جو برآمدات کی شرائط پوری کرتی ہوں تاہم محکمہ کے چند عناصر ان طریقہ کار کو اہمیت نہیں دیتے اور صرف چند کمپنیوں کو یورپی ملکوں میں برآمدات کی اجازت دیتے ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہناہے کہ روکی گئی کنسائمنٹس میں سے دو کی اجازت پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے افسران نے ضوابط کے خلاف ورزی کرتے ہوئے دی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…