بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

عید کی 10 چھٹیاں، تاجروں کی نیندیں اڑ گئیں حکومت کو کاروباری اوقات مینج کرنے کا طریقہ بتا دیا

datetime 4  مئی‬‮  2021 |

کراچی (این این آئی)کراچی چیمبر آف کامرس کے بزنس مین گروپ کے چیئرمین زبیر موتی والا نے کہا ہے کہ عید الفطر کی تعطیلات کے سلسلے میں 10 دن صنعت بند ہو گی تو انڈسٹری کو بہت نقصان ہو گا۔عید الفطر کی تعطیلات کے حوالے سے کراچی چیمبر آف کامرس کی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے زبیر موتی والا نے کہا کہ عید کی چھٹیاں 3 سے

4 دن ہونی چاہئیں، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے۔زبیر موتی والا نے کہا کہ صبح 6 بجے دکانیں کھولنا کراچی کے تاجروں کا مزاج نہیں، اس کیلئے دن 12 سے رات 12 تک وقت دیں۔انہوں نے کہا کہ کاروباری اوقات کو اسمارٹ طریقے سے مینج کرنے کی ضرورت ہے۔دوسری جانب کراچی میں مارکیٹوں کو سیل کرنے اور کاروباری اوقات کار میں کمی سے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان کا خدشہ ۔70 فیصد ریونیو دینے والے شہر کے تاجروں کو مشاورت میں نظر انداز کردیا گیا کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کا بیانہ بناکر اہم ترین بازار سیل کردیئے جاتے ہیں ٹیکس جنریشن میں کمی ہونے کے امکانات بڑھ گئے اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر ٹیکسٹائل پلازہ اونر ایسوسی ایشن کے صدر محمد اکرم رانا نے بتایا کہ پہلے ہی کاروباری اوقات کار میں کمی ہے گرمی کی وجہ سے شہری دوپہر کے بعد مارکیٹوں کا رخ کرتے ہیں اور شام 6 بجے بازار بند کردیئے جاتے ہیں مشکل سے 3 یا 4 گھنٹے

کاروبار ہوتا ہے رمضان المبارک میں گارمنٹس سمیت دیگر پراڈکٹ کا سال میں صرف ایک ماہ ہی سیزن ہوتا ہے شہری کپڑے و دیگر اشیاء خریدتے ہیں تاہم کاروباری اوقات کار محدود ہونے اور ہفتے میں 2 سے 3دن مارکیٹس بند ہونے سے کاروبار کو بے حد نقصان ہورہا ہے انہوں

نے کہا کہ گزشتہ لاک ڈائون کے اثرات سے تاجر برادری تا حال سنبھل نہیں پائی ہے پہلے بھی لاک ڈائون اور بارش کی تباہ کاری سے اربوں کا نقصان ہوا ہے اور اب کاروباری اوقات کار میں کبھی مارکیٹوں کو سیل کرنے سے تاجروں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مارکیٹوں کے اوقات کار رات 12 بجے تک کیئے جائیں اور کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کیلئے بازاروں میں فوج کی خدمات لی جائیں اور بازاروں کو سیل کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…