جمعہ‬‮ ، 09 اکتوبر‬‮ 2026 

شہنشاہ غزل مہدی حسن کے خاندان کا کوئی پرسان حال نہیں،گھر کی بجلی تک کٹ چکی ، افسوسناک انکشافات

datetime 1  مئی‬‮  2021 |

مکوآنہ  (این این آئی )گھر کی بجلی تک کٹ چکی ہے۔شہنشاہ غزل مہدی حسن کے خاندان کا کوئی پرسان حال نہیں ایک دور تھا جب بر صغیر کے بہترین گائیکوں میں سے ایک مہدی حسن کو ہی مانا جاتا تھا۔میڈم ترنم نور جہاں نے خود اسٹیج پر کھڑے ہو کر انہیں اپنا استاد مان لیا تھا اور ان کی اس بات پر مہدی حسن بھی گھبرا گئے تھے۔یہ وہ دور تھا جب مہدی حسن کو بھارت نے اپنی سر

زمین پر ہمشیہ کے لئے رہنے کی آفر بھی کی اور یہ تک کہہ ڈالا کہ جہاں تک آپ کی نظر جائے وہاں تک کی زمین آپ کے نام۔لیکن وہ گائیکی کا شہنشاہ اپنے ملک کی مٹی کو کسی اور کے نام کرنے کے لئے راضی نا ہوا۔ایک عرصہ تک بیماری کا شکار رہنے کے بعد مہدی حسن کے علاج اور دیگر اخراجات کے لئے حکومت سے ان کا خاندان مدد مانگتا رہا۔مدد آتی بھی تھی لیکن ان کے دونوں بیٹے کبھی کسی نوکری سے وابستہ نہیں دیکھے گئے۔اور اسی مدد کے سہارے ان کا گھر بھی چلتا رہا۔پھر ایک طویل بیماری سے لڑنے کے بعد مہدی حسن عدم دیس سدھار گئے۔ان کے دونوں بیٹے بھی کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے لگے۔وہ کراچی کے ایک انتہائی مفلس علاقے میں رہنے پر مجبور تھے لیکن ان کے پاس وہاں کے اخراجات کے لئے بھی کوئی کمائی نہیں تھی۔اوپر تیسری منزل پر بڑے بھائی اپنی بیماری سے لڑ رہے تھے اور نیچے مہدی حسن کی آواز رکھنے والے ان کے چھوٹے بیٹے آصف مہدی گردوں اور جگر کے عارضے سے جنگ کر رہے تھے۔گھر کے حالات بگڑے تو بہو نے اپنے زیور تک بیچ ڈالے لیکن وہ بھی سمندر میں قطرے کی مانند تھے۔پھر ایک دن وہ بھی آیا جب گھر کی بجلی بل نا بھرنے کے باعث کاٹ دی گئی۔شدید گرمیوں کے دن اور تپتی ہوئی چھت نے اس خاندان کے دل کو بھی جھلسا دیا۔اکیس دن تک گرمی کی تکلیف نے مہدی حسن کے بڑے بیٹے کو شکست دے دی اور وہ زندگی کی بازی ہار گئے۔دوسری طرف نیچے آصف مہدی کے ڈائیلاسس کے لئے کوئی سہولت نہیں ۔مہدی حسن کے ایک پوتے شوگر اور ایک پوتی کینسر سے جنگ لڑ رہی ہے۔خاندان کا ہر شخص یہ سوچتا ہے کہ کس کی زندگی اور کس کا جینا اس وقت زیادہ اہم ہے۔بولیں تو کیا بولیں ۔کیا اس وقت بجلی مانگیں، کھانا مانگیں یا جینے کے لئے سہارا مانگیں۔شہنشاہ غزل کے خاندان کی یہ حالت دیکھ کر سب کو ہی افسوس ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…