جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پنجاب حکومت کی عجیب عجلت لینڈ مافیا کو این آر او دے ڈالا، تہلکہ خیز انکشافات

datetime 17  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عجیب جلدبازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پنجاب حکومت نے ایک ایسا آرڈیننس نافذ کیا ہے جس میں 6 ہزار غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیز کو دو فیصد کے معمولی جرمانے کے عوض ریگولرائز کر دیا گیا ہے۔اس اقدام کو لینڈ مافیا کیلئے این آر او قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ تمام تر کارروائی خاموشی کے ساتھ مکمل کی گئی کیونکہ سرکاری حکام کو اس معاملے پر غور و خوص

ہی نہیں کرنے دیا گیا جبکہ ایک آئینی عہدیدار نے قانون کا مسودہ تیار کیا جبکہ قانون کی منظوری کابینہ سے سرکیولیشن کے ذریعے لی گئی۔روزنامہ جنگ میں عمر چیمہ کی شائع خبر کے مطابق اس معاملے پر کئی وزرا نے رائے دینے سے گریز کیا اور ان کی خاموشی کو ہاں سمجھ لیا گیا۔ ایک وزیر نے بتایا کہ رائے معلوم کرنے کے حوالے سے انہیں کوئی سمری موصول نہیں ہوئی۔ اس معاملے سے آگاہ ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ غیر قانونی ہائوسنگ اسکیموں کو ریگولرائز کرنے کے پنجاب کمیشن آرڈیننس 2021 نافذ کرکے صرف دو فیصد جرمانہ عائد کیا گیا ہے اور یہ ایسا ہے جیسے کسی کو خالی چیک دیدیا گیا ہو۔انہوں نے کہا کہ 6 ہزار ہائوسنگ سوسائٹیز غیر قانونی ہیں، ان میں سے 1500 ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں جن میں ایل ڈی اے، راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی، فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی، گجرانوالہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی وغیرہ شامل ہیں۔ باقی ہائوسنگ سوسائٹیز ضلعی حکومتوں اور میونسپل کارپوریشنز کے دائرہ اختیار میں ہیں۔ سرکاری خط و کتابت کا جائزہ لیں تو یہ معاملہ

وزیراعلیٰ پنجاب نے شروع کیا جو بلدیاتی حکومتوں کے بھی وزیر ہیں۔انہیں وفاقی حکومت کی بھی حمایت حاصل ہے، اس معاملے کو حقیقت کا روپ دینے کی اتنی جلدی تھی کہ کابینہ سے منظوری بھی سرکیولیشن کے ذریعے لی گئی کیونکہ اس معاملے پر پیشرفت سے وزیراعظم کو آگاہ کرنا تھا۔اس قانون کو آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا گیا کیونکہ پنجاب اسمبلی سیشن میں نہیں تھی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہائوسنگ سوسائٹیز کا معاملہ پرانا ہے اور اس سلسلے میں کوئی بھی قانون سازی اس وقت ہونا ہوتی ہے جب اسمبلی سیشن میں ہو۔ معلوم ہوا ہے کہ ایک سرکردہ آئینی عہدیدار نے اس

قانون کا مسودہ تیار کیا حالانکہ یہ کام ایگزیکٹو برانچ کا تھا۔آرڈیننس کے ذریعے قائم کیے گئے کمیشن (دی پنجاب کمیشن فار ریگولرائریشن آف اِر ریگولر ہائوسنگ اسکیمز) کے چیئر پرسن سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج صاحب ہوں گے جنہیں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی مشاورت کے ساتھ تعینات کیا جائے گا۔کمیشن میں چار ارکان ہوں گے جن میں ایک ٹائون پلانر، ایک سول انجینئر، ایک ماحولیاتی ماہر اور ایک قانونی ماہر شامل ہوں گے۔ ارکان کو صوبائی حکومت نامزد کرے گی۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق، اس معاملے پر صوبائی اور وفاقی حکومت متفق ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…