جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

میں وزیر اعلیٰ ہائوس سے بات کر رہا ہوں۔۔۔ نامور شاعر و ادیب کے نمبر سے یونیورسٹی میں نوکری کے لیے جعلی کال کرنا مہنگی پڑ گئی

datetime 15  اپریل‬‮  2021 |

نواب شاہ، کراچی (این این آئی) سندھ کی ایک یونی ورسٹی میں نوکری کے لیے جعلی سفارشی کال کروانے والا گرفتار ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق سندھ کی قائد عوام یونی ورسٹی میں نوکری کے لیے جعلی سفارشی کال کروانے والا گرفتار ہو گیا، پولیس کے مطابق ملزم خلیل سولنگی نے یونی ورسٹی انتظامیہ کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔پولیس حکام نے

بتایا کہ جعل ساز نے فون پر کہاکہ میں وزیر اعلی ہائوس سے بات کر رہا ہوں، تاہم انتظامیہ نے انکوائری کروائی تو فون کال جعلی نکلی۔جعل ساز نے جس نمبر سے کال کی تھی، جب اسے ٹریس کیا گیا تو انکشاف ہوا کہ وہ نامور شاعر و ادیب احمد سولنگی کے نام پر ہے، پولیس نے ملزم خلیل سولنگی کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔دوسری جانب ڈائو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ملازمین کو سب سے کم تنخواہیں دی جارہی ہیں ہمارے دیرینہ مسئلے کے حل میں صحافی برادری اپنا کرداراداکرے۔یہ مطالبہ ڈائویونیورسٹی آف ہیلتھ سائینسز جوائنٹ ایکش کمیٹی نے پی ایف یوجے ورکرز کے نائب صدر انیس حیدر کو ایک مراسلے میں کیا جوائنٹ ایکش کمیٹی نے بتایاکہ ڈائویونیورسٹی آف ہیلتھ سائینسز ملک کا قدیم و باقار طبی و تدریسی ارادہ ہے ۔ بلین سیلف ارننگ ، سندھ گورنمنٹ گرانٹ ، فیڈرل ایچ ای سی گرانٹ کے ریسورسز کیساتھ پورے سندھ کی سب سے زیادہ آمدنی کمانے والی یونیورسٹی ہے ۔ اس کے باوجود اس مہنگائی کے دور میں ڈا

یونیورسٹی کے محنتی ، ایماندار اور قابل آفیسرز ، اسٹاف ، نرسنگ ، پیرا میڈیکل اسٹاف آج بھی پورے سندھ کے مقابلے میں40 فیصدکم تنخواہیں اور بنیادی الائونسزلینے پر مجبور ہیں ۔ملازمین نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے 27 اکتوبر سے 19 نومبر تک دیرینہ اور

جائز مطالبات کے حق میں بڑی احتجاجی ریلی ، دھرنا اور پریس کلپ پر بھی احتجاج کیا ۔ 19 نومبر کو رکن سندھ اسمبلی پیپلز پارٹی و ممبر ڈا سینڈیکیٹ محترمہ شمیم ممتاز نے مظاہرین سے ملاقات کی اور پیپلز پارٹی کے روٹی کپڑا مکان کے نعرے اور کووڈ کی دوسری لہر کے سبب

ڈا ئویونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ مزاکرات کرائے اور 14 نکات پر مبنی چارٹر آف ڈیمانڈ طے ہوا اور یقین دہانیاں کرائی کہ آپ کے جائز مطالبات ڈا یونیورسٹی ، سندھ حکومت اور وزیر اعلی سندھ محترم مراد علی شاہ صاحب سے بات کرکے دو ماہ کی مدت میں حل کرائے جائیں گے ۔ پانچ

ماہ گزر چکے ہیں ڈا ئوانتظامیہ کی جانب سے ملازمین کے جائز مطالبات حل کرنے میں عدم دلچسپی و غیر سنجیدگی کے سبب ملازمین میں شدید بے چینی ، غم و غصہ اور تشویش پائی جاتی ہے ۔ 24 مارچ کو آل سندھ یونیورسٹیز ایمپلائیز فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے سند ھ کی جامعات میں مظاہرہ ودھرنادیا اجتجا ج کا سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…