منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

کپاس کی مجموعی پیداوارملکی تاریخ کی کم ترین سطح پرآگئی

datetime 12  اپریل‬‮  2021 |

کراچی(آن لائن ) فیڈرل کمیٹی آن ایگری کلچر (ایف سی اے) کی جا نب سے کپاس کی مجموعی پیداوار کا ہدف حاصل نہ ہونے کے باوجود سال2020-21 کے لیے پیداواری ہدف ایک بار پھرایک کروڑ 5 لاکھ گانٹھ مقرر کردیا ہے۔ کاٹن جننگ فورم کے چیئرمین احسان الحق نے موجودہ حالات میں (ایف سی اے) کیمقررکردہ پیداواری

ہدف کو ناممکن قراردے دیا ہے۔ اس ہدف سے ٹیکسٹائل ملز کو اپنی سالانہ حکمت عملی ترتیب دینے میں مشکلات کا سامنا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ 8سال کے دوران پاکستان میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار ہمیشہ ایک کروڑ گانٹھ سے کم رہی ہے، جب کہ رواں سال کپاس کی مجموعی قومی پیداوا ر ملکی تاریخ کی کم ترین سطح 56 لاکھ 50 ہزار گانٹھ تک محدود رہی۔انہوں نے بتایا کہ ایف سی اے زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے ہر سال کپاس کا مجموعی پیداواری ہدف ایک کروڑ گانٹھوں سے زائد مقرر کر رہی ہے اور اس ہدف کو کبھی حاصل نہیں کیا گیا۔ اس غیر حقیقت پسندانہ پیداوری ہدف کی وجہ سے ٹیکسٹائل ملز اور برآمد کنندگان کو اندرون ملک روئی کی دست یابی اورغلط اندازوں کے خدشات کے پیش نظرعین موقع پر مہنگے داموں روئی درآمد کرنا پڑے گی۔چیئر مین ایف سی اے نے وزیر اعظم عمران خان سے درخواست کی ہے کہ فوری طور پر نئی کاٹن و ٹیکسٹائل پالیسی کا اعلان کیا جائے تاکہ بہتر متوقع آمدنی کی صورت میں کپاس کی کاشت میں ریکارڈ اضافہ ہونے سے اربوں ڈالر مالیتی روئی اور خوردنی تیل کی درآمد کو کم سے کم کیا جاسکے۔انہوں نے بتایاکہ چین نے امریکہ سے جاری اقتصادی جنگ کے باوجود بھارت سے روئی خریدنے کی بجائے دوبارہ امریکہ سے روئی کی خریداری شروع کر

دی ہے جب کہ بھارت سے روئی کی درآمد کی اجازت نہ ملنے اور افغانستان اورروسی ریاستوں میں روئی کی عدم دستیابی کے باعث گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی اور سوتی دھاگے کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے جبکہ پاکستان نے امریکہ سے روئی کی خریداری میں بھی اضافہ کر دیا ہے تاکہ ٹیکسٹائل مصنوعات کے برآمدی معاہدوں کی بروقت تکمیل کی جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…