جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

ماڈل تعلیمی اداروں میں من پسند افراد کی تعیناتی کا انکشاف ، ٹیچر کو بڑے تعلیمی ادارے کا سربراہ لگا دیا گیا 

datetime 11  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی نظامت تعلیمات کے زیر اہتمام چلنے والے ماڈل تعلیمی اداروں کے سربراہان کی تعیناتیوں میں میرٹ کی جگہ من پسند افراد کو نوازاے جانے  کا انکشاف ہوا ہے۔ ایف ڈی ای کی طرف سے باقاعدہ انٹرویو لینے کے بعد 6 اپریل کو کی گئی حالیہ تقرریوں میں چھ سینئر ترین اساتذہ کو نظر انداز کرتے ہوئے سینیارٹی میں آٹھویں نمبر پر موجود ٹیچر کو بڑے تعلیمی ادارے کا

سربراہ لگا دیا گیا ہے۔ ایف ڈی ای حکام کی طرف سے بڑے تعلیمی ادارے سینئر اساتذہ کو نظر انداز کر کے جونیئر اساتذہ کے حوالے کرنے سے بہترین سابقہ ریکارڈ رکھنے والے   ادارے   تباہی کے دھانے پر پہنچ چکے ہیں۔تفصیلات کے مطابق وفاقی نظامت تعلیمات کے زیر اہتمام چلنے والے ماڈل تعلیمی اداروں کے سربراہان کی تعیناتیوں میں من پسند اساتذہ کو نوازنے کا عمل تاحال جاری ہے۔ ماڈل کالجز کے پرنسپلز کی تعیناتیوں کے قائم کمیٹی میں شامل ڈائریکٹر ماڈل کالجز آفتاب طارق کی بطور کمیٹی ممبر اور امیدوار موجودگی نے معاملے کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ ایف ڈی ای کی طرف سے چھ اپریل کو تین بڑے تعلیمی اداروں میں کی گئی نئی تعیناتیوں میں سینیاڑٹی کم فٹنس کا اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن کے مروجہ قانون کو نہ صرف بائی پاس کیا گیا ہے بلکہ فٹنس کی جگہ حالیہ تعیناتیوں میں ذاتی تعلق اور خوشامدیوں کو ترجیح دی گئی ہے۔حالیہ تعیناتیوں میں ڈاکٹر اسد فیض کو ماڈل کالج فار بوائیز ایف ایٹ فور سے ایف الیون تھری،محمد احسان الحق کو ایف ٹین تھری سے ایف ایٹ فور جبکہ افتخار شہباز کو آئی سی بی سے ماڈل کالج فور بوائیز آئی ایٹ فور تعینات کیا گیا ہے۔مجوزہ تقرر ناموں میں چھ ایسے سینئر اساتذہ کو نظر انداز کیا گیا ہے جو نہ صرف سینیارٹی میں سر فہرست ہے بلکہ ان کی کارکردگی ریکارڈ بھی تعیناتی پانے والے دیگر اساتذہ سے بہتر ہے۔ سینئر اساتذہ نے آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے  الزام لگایا ہے کہ ایف ڈی ای حکام کی طرف سے پسند نہ پسند کی بنیاد پر کی گئی حالیہ تعیناتیوں سے سینئر اساتذہ کی نہ صرف حق تلفی کی گئی ہے بلکہ بڑے تعلیمی اداروں کو جونیئر اساتذہ کے حوالے کرنے سے ان اداروں میں پڑھنے والے بچوں کا مستقبل بھی تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔آن لائن کی طرف سے موقف کے لئے رابطہ کرنے پر ڈائریکٹر ماڈل کالجز ایف ڈی ای آفتاب طارق نے اعتراف کیا کہ کو پرنسپلز کی تعیناتی کے لئے قائم تین رکنی کمیٹی میں شامل ہونے ساتھ ساتھ بطور امیدوار بھی اس عمل کا حصہ رہے  ہیں ۔ تا ہم انہوں نے واضح کیا کہ کمیٹی ممبر ہونے کے باوجود نئی تعیناتیوں میں موجود نہ ہونا میرے غیر  جانبدار ہونے کو واضح کرتا ہے۔ ڈائریکٹر ماڈل کالجز ایف ڈی ای نے بتایا کہ ہمارے پاس ماڈل کالجز سیٹ اپ میں پرنسپل کی کوئی آسامی نہ ہے۔ اداروں کے سربراہوں کی تعیناتی ڈائریکٹر جنرل کا صوابدیدی اختیار ہے جو وہ بطریق احسن نبھا رہے ہیں۔ حالیہ تعیناتیوں میں بھی سینیاڑٹی کم فٹنس کے فارمولا پر عمل کیا گیا ہے اور جس امیدوار نے زیادہ نمبر حاصل کیے اسے ہی بطور پرنسپلز تعینات کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…