جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی شہریت رکھنے والے شخص کو انتہائی اہم عہدہ دینے کا فیصلہ، شفافیت اور میرٹ کی دعویدار پی ٹی آئی حکومت نے خود ہی میرٹ کی دھجیاں اڑانا شروع کردیں

datetime 8  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)شفافیت اور میرٹ کا دعوی کرنے والی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے خود ہی میرٹ کی دھجیاں اڑانا شروع کردی ہیں اور ایک ایسے شخص کو خلاف قواعد چیئرمین نادرا لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس نے درخواست ہی نہیں دی تھی اور اس شخص کی کمپنی پہلے ہی بلیک لسٹڈ ہے اور امریکی شہریت بھی رکھتا

ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو تین ناموں پر مشتمل سمری بھجوائی گئی تھی مگر وزیراعظم آفس کے اعلیٰ حکام نے اس سمری میں دو مزید نام نہ صرف شامل کروائے بلکہ انہیں سرفہرست بھی رکھ لیا،حالانکہ جن تین ناموں کی سمری بھجوائی گئی تھی انہیں شارٹ لسٹ کرکے انٹرویو بھی کئے گئے تھے مگر چند روز قبل حیرت انگیز طور پر سہیل منیر کا نام سرفہرست کے طور پر سمری میں شامل کیا گیا اور اس کی ہدایت وزیراعظم آفس کے اعلیٰ افسران کی جانب سے دی گئی۔سہیل منیر کی کمپنی C41کے ساتھ فراڈ کرچکی ہے اور اسے بلیک لسٹ بھی قرار دیا جاچکا ہے۔سہیل منیر خود بھی امریکی شہری ہیں اور بیوروکریسی کے سینئر افسران نے اس کو نادرا جیسے حساس ادارے کا چیئرمین بنانے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایک ایسا شخص جو امریکی شہریت رکھتا ہے اسے پاکستان کے شہریوں کا ڈیٹا رکھنے والے ادارے کا سربراہ کیسے بنایا جاسکتا ہے؟یہ ایک حساس ادارہ ہے اور سہیل منیر کی یہاں تعیناتی سے پاکستانیوں کا ڈیٹا خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق سہیل منیر امریکی فوجی ادارے C41کا ملازم تھا اور اسے نااہلی کی بنیاد پر نکال دیا گیا تھا اور اب اسے چیئرمین نادرا بنانے کا فیصلہ میرٹ اور قواعد کے خلاف کیا جارہا ہے جبکہ جن افسران کی سمری خود وزارت داخلہ نے بھجوائی تھی اس سمری کو سائیڈ لائن کردیاگیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…