بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

سعودی بزنس ٹائیکون گروپ نے تابش گوہر کو کے الیکٹرک کے معاملات میں مداخلت کرنے پر اعتراض اٹھادیا

datetime 7  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)سعودی بزنس ٹائیکون الجمعیہ گروپ کے سربراہ شیخ عبدالعزیز الجمیح نے وزیر اعظم عمران خان کو خط لکھا دیا جس میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی تابش گوہر کو کے الیکٹرک کے معاملات میں مداخلت کرنے پر اعتراض کیا گیا ہے ۔خط میں سعودی سرمایہ کار نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ معاون خصوصی برائے پاور، شنگھائی الیکٹرک اور

کے الیکٹرک کے درمیان ہونے والے معاہدے میں جان بوجھ کر رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں ، گزشتہ ماہ دورہ پاکستان کے دوران انہیں یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ زیر التوا مسائل کے حل کی دستاویزکو حتمی شکل دی جارہی ہے۔ خط کے متن کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی کی جانب سے

آخری لمحات میں دیے گئے منفی تبصرے نے کے الیکٹرک اور شنگھائی الیکٹرک کی ڈیل کو خطرات سے دوچار کردیا ہے ، تابش گوہر کا کےـالیکٹرک کے معاملات میں مفادات کا تصادم ہے کیونکہ وہ کے الیکٹرک کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر اور چیئرمین رہ چکے ہیں ، معاون خصوصی کو 10 مارچ کو

کےـالیکٹرک کے تمام بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی بریفنگ میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی حالانکہ وہ بات چیت کے عمل میں شامل نہیں تھے ۔ نجی ٹی وی کے مطابق مشیر توانائی تابش گوہر نے الجماعیہ گروپ کے الزامات مسترد کر دیے ہیں، تابش گوہر نے جواب میں کہا کہ کے الیکٹرک کی نجکاری

میں سب سے اہم مفاد شہر کراچی کا ہے، میں 2015 تک کے الیکٹرک کا سی ای او رہا، اس سے مفادات کا ٹکراؤ نہیں ہوتا، کے الیکٹرک کے لیے شنگھائی الیکٹرک کے ساتھ معاہدے میں خامیاں ہیں۔تابش گوہر نے کہا کہ اس معاہدے میں بنیادی خامیوں کی وجہ سے 5 سال سے فروخت ممکن نہیں ہو سکی ہے،

2016 سے 2 حکومتیں اور بیوروکریسی بھی شنگھائی الیکٹرک معاملہ حل نہ کر سکی، میں نے انویسٹرز کانفرنس میں کے الیکٹرک کی دعوت پر شرکت کی تھی، کلابیک قانون پر میری رائے کی بجائے نیپرا کی گزارشات اہم ہیں۔انھوں نے رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمز آف ریفرنس میں

مجوزہ ثالث ٹریبونل رکاوٹوں میں سے ایک ہے، ٹرمز آف ریفرنس میں گردشی قرضے کا معاملہ بھی ڈیل کی راہ میں رکاوٹ ہے، کے الیکٹرک کی فروخت کے بعد نرخوں میں اضافے کا مطالبہ بھی ایک مسئلہ ہے، اور ادائیگیوں میں تاخیر پر سرچارج کی صارفین کو منتقلی کا مطالبہ بھی مسئلہ ہے۔تابش

گوہر نے کہا ہے کہ نیپرا نے سرچارج کی صارفین کو منتقلی کا مطالبہ تمام تقسیم کار کمپنیوں کے لیے پہلے ہی مسترد کر دیا ہے، مستقبل میں بجلی کی فراہمی پر ادائیگیوں کے طریقہ کار پر بھی بنیادی تنازعات ہیں، کے الیکٹرک اور اس کے مجوزہ خریدار کی مالی معاملات پر تشویش کی ایک حد تک اہمیت ہے۔انھوں نے کہا کہ شنگھائی الیکٹرک کے لیے ریاست اور عوام کو ثانوی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…