جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

نئی سیاسی صف بندی میںچاروں صوبوں میں ’’باپ ‘‘ اور ’’سوتیلے بیٹوں ‘‘کا اتحاد نظر آرہا ہے، حافظ حسین احمد کا ڈاکٹر عدنان بارے بھی تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 5  اپریل‬‮  2021 |

کراچی /کوئٹہ ( آن لائن ) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے رہنما اور سینئر سیاستدان حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ حکمرانوں کو آر پار کرنے کے دعویدار خود پارہ پارہ ہوگئے ہیں اور لانگ مارچ ،استعفے اور عمرانی حکومت گرانے کے بلند و بانگ دعوے ’’لیڈ ربھبکیاں‘‘ ثابت ہوچکی ہیں ، ہر جماعت اپنے مفادات اور معاملات کو طے

کرنے کی دوڑ میں لگی رہی جبکہ پی ڈی ایم کے خاتمے کا الزام ایک دوسرے پر لگایا جاتا ہے ڈاکٹر عدنان کے آمد کی خبر کے ساتھ ہی پی ڈی ایم کا یہ حشر تو ہونا ہی تھا۔ پیر روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق سینیٹر حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم میں شامل ہر جماعت نے اپنی بساط کے مطابق حکومت کی سہولت کاری کا حق ادا کیاکسی نے پنجاب میں تحریک انصاف کے ساتھ ملکر سینیٹر منتخب کرائے اور کسی نے سنجرانی کو ایکسٹینشن دلوانے میں کردار ادا کیاجبکہ مسلم لیگ ن کے شہ پر مبینہ طور پر لانگ مارچ کے ساتھ استعفوں کو نتھی کیا گیاتاکہ لانگ مارچ سے جان چھڑائی جاسکے اور سارا الزام پیپلز پارٹی کے سر ڈالا جاسکے ، انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ان اقدامات کے بعد کیا شوکاز نوٹس دیا جاسکتا ہے جبکہ پی ڈی ایم کی تشکیل ہی پیپلز پارٹی کے ہاتھوں ہوئی ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ استعفوں کے آڑ میں لانگ مارچ کو یکسر ختم کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ پی ڈی ایم کسی تحریک چلانے سنجیدہ نہیں کیوں کہ اگر پیپلز پارٹی پیچھے ہٹ چکی ہے تو پھر بھی 9ستارے رہ گئے ہیں کیا ان میں بھی کوئی روشنی نہیں رہی ، ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لندن کا موسم ایک بار پھر خوشگوار ہوتا جارہا ہے دیکھیں اس بار ڈاکٹر عدنان کون سی گیدڑ سنگھی کا سہارا لیں

گے ، انہوں نے کہا کہ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا پی ڈی ایم کے نمائشی سربراہ کسی جماعت کو شوکاز نوٹس دینے کا اختیار بھی رکھتے ہیں یا نہیں ، حافظ حسین احمد نے کہا کہ لگتا ہے کہ ملک میں ایک نئی سیاسی صف بندی کا نقشہ ترتیب دیا جارہا ہے جس میں کل کے حلیف حریف ہونگے اور چاروں صوبوں میں اپوزیشن کا اتحاد ہی نہیں بلکہ ’’باپ ‘‘ ان کے’’ سوتیلے بیٹوں‘‘ کا اتحاد نظر آرہا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…