ہفتہ‬‮ ، 25 جولائی‬‮ 2026 

براڈشیٹ کمیشن نے عدلیہ کے اپنے ہی سکینڈل کو نظرانداز کردیا انصار عباسی نے نیا پنڈوراباکس کھول دیا، ہوشربا انکشافات

datetime 4  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جسٹس (ر) عظمت سعید شیخ کی زیر قیادت قائم کردہ براڈشیٹ کمیشن نے بڑی آسانی سے عدلیہ کے اپنے ہی سکینڈل کو نظرانداز کردیا جس میں مختلف احتساب عدالتوں کی جانب سے سنائے جانے والے ایس جی ایس اور کوٹیکنا کیسز کے فیصلوں کو نقل کیا گیا تھا اور ان کیسوں میں شریک ملزم آصف علی زرداری کو 2011 میں بری کر

دیا گیا تھا۔ روزنامہ جنگ میں انصار عباسی کی شائع خبر کے مطابق یہ معاملہ صرف ججوں کے سنگین مس کنڈکٹ کا نہیں بلکہ اس میں کیسوں کو حتمی شکل دیدی گئی اور مشکوک انداز میں ایک ایسے وقت کیس کا فیصلہ آصف زرداری کے حق میں سنایا گیا جب وہ صدرِ پاکستان تھے۔ عظمت کمیشن نے زرداری کی نون لیگ کے دورِ حکومت میں بریت کا معاملہ تو اٹھایا ہے اور اس کیلئے ان کیسوں کے ریکارڈ کی گمشدگی کا ذکر کیا ہے لیکن اس بات کا کوئی تذکرہ نہیں کہ احتساب عدالتوں کے ججوں نے 2011 میں کس طرح کیسوں کا فیصلہ شریک ملزم زرداری کے حق میں سنایا۔ جو بات حیران کن ہے وہ یہ ہے کہ سنگین غلطی کا ارتکاب ہونے کا معاملہ طے ہوگیا تھا لیکن اس کے باوجود نہ صرف متعلقہ ججوں کو کسی سزا کے بغیر مکمل پنشن فوائد کے ساتھ ریٹائر ہونے دیا گیا اور اس متنازع انداز سے سنائے گئے کیسوں کے فیصلوں پر بھی دوبارہ کوئی ٹرائل نہیں ہوا۔ نیب نے بھی ان کیسوں کا فیصلہ زرداری کے حق میں سنائے جانے میں

کردار ادا کیا تھا لیکن ادارے نے کمیشن کو ملک کے نظام انصاف کے اس سنگین اسکینڈل کے متعلق نہیں بتایا۔ انکوائری میں ثابت ہوا تھا کہ دو مختلف احتساب عدالت کے ججوں کے فیصلوں میں سنگین غلطیاں موجود ہیں۔ متعلقہ ججوں کیخلاف انکوائری صرف اس وجہ سے روک

دی گئی کہ یہ لوگ ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ چکے ہیں۔ اس وجہ سے نہ صرف ان ججوں کو کھلی چھوٹ مل گئی بلکہ اس اقدام کی وجہ سے اسکینڈل زدہ فیصلے تاریخ کا حصہ بن کر بند ہوگئے کیونکہ اب تک کسی نے ان فیصلوں پر دوبارہ ٹرائل نہیں کیا۔ریٹائرمنٹ کی وجہ سے نہ صرف

یہ ججز ممکنہ جرمانے یا سزا سے بچ گئے بلکہ ان کے سنائے گئے متنازع فیصلوں کو آج تک کسی نے چیلنج بھی نہیں کیا۔ ایس جی ایس کیس کا فیصلہ 30 جولائی 2011 جبکہ کوٹیکنا کیس کا فیصلہ 16 ستمبر 2011 کو سنایا گیا تھا۔ دونوں ججوں کے تحریر کردہ فیصلوں میں

یکسانیت اور مماثلت حیران کن اور ناقابل یقین تھی حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں کیسز ابتدا سے ہی علیحدہ تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اے آر وائی گولڈ ریفرنس اور ایس جی ایس ریفرنس کے فیصلے احتساب عدالت نمبر دوم کے جج نے لکھے تھے اور اس کا اعلان 30 جولائی 2011 کو کیا گیا تھا، اس فیصلے میں عجیب خامیاں تھیں۔ ان میں سب سے زیادہ اہم یہ بات تھی کہ سابق سیکریٹری فنانس اور اس وقت کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ورلڈ بینک کو بطور پراسیکوشن گواہ قبول کیا گیا تھا لیکن اسی شخص کو اسی عدالت نے اے آر وائی گولڈ کیس میں اشتہاری قرار دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…