جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

براڈشیٹ انکوائری کیا عظمت سعید نے تنقید کرنیوالوں کو بالواسطہ شور کرنیوالے گیدڑوں سے تشبیہ دی؟نئی بحث چھڑ گئی

datetime 4  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) جسٹس ریٹائرڈ شیخ عظمت سعید جنہوں نے براڈشیٹ انکوائری کمیشن کی سربراہی کی اور رپورٹ وفاقی حکومت کو جمع کروائی، انہوں نے بالواسطہ ان سیاست دانوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے جنہوں نے ان کی تقرری پر سخت تنقید کی تھی۔ روزنامہ جنگ میں طارق بٹ کی شائع خبر کے مطابق اپوزیشن رہنمائوں کی جانب سے سخت

تنقید کے باوجود سپریم کورٹ کے سابق جج نے اپنا ذہن تبدیل نہیں کیا اور یہ ذمہ داری قبول کی تھی۔ اسی طرح وزیراعظم عمران خان جنہوں نے یہ ذمہ داری انہیں دی تھی وہ بھی اپنے فیصلے پر قائم رہے۔ سابق جج نے سخت تنقید کے باوجود مکمل سکوت اختیار کیے رکھا۔ تاہم، ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اپنی رپورٹ میں تنقید کرنے والے سیاست دانوں سے اپنے انداز میں بدلہ لیا ہے۔ انہوں نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ان کی رپورٹ کے حصے مارگلہ ہلز میں شام دیر سے لکھے گئے، جہاں وہ قیام پذیر تھے۔ جبکہ مستقل تنقید کا شورشرابہ ان کا مستقل ساتھی تھا۔ تاہم، اس کی وجہ سے وہ اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹے۔ انہوں نے لکھا کہ بدعنوانی پر معافی مانگنے والے درجنوں ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ انہیں اس بات پر حیرت تھی کہ کیا یہ رجحان قدیم قبائلی نظام ، اخلاقی گراوٹ کا عکاس ہے یا ایسے افراد بیجا امید لگائے ہوئے ہیں۔ جو بھی ہے، جیسا کہ کسی نے کہا ہے اور میں نے نقل کیا ہے۔ جب بھی میں کرپشن دیکھتا ہوں تو اپنے

طریقے سے حقائق تلاش کرنے پر مجبور ہوجاتا ہوں۔ میں منافقت برداشت نہیں کرسکتا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کے فعال ہونے سے قبل ہی بیوروکریسی محتاط ہوکر خوفزدہ گھونگھے کی طرح اپنے شیل میں چلی گئی تھی۔ متعدد وزارتوں/ڈویژنز/محکموں کی جانب

سے عدم تعاون کا یہ عالم تھا کہ جس پر موہن داس کرم چند گاندھی(مہاتما گاندھی)بھی فخر کرتے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ متعلقہ ریکارڈ کو چھپانے اور سامنے نہ لانے کی ہرممکن کوشش کی گئی تاکہ موجودہ اور ان سے قبل کے سیاسی مستفید کنندگان کی کرپشن اور نااہلی پر

پردہ ڈالا جاسکے۔ حیرت انگیز طور پر ایک سے زائد محکمے اور براعظم کا ریکارڈ کھوگیا۔ صرف اسلام آباد ہی نہیں بلکہ لندن میں پاکستان کے ہائی کمیشن کا ریکارڈ بھی گم ہوگیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ کے جج بننے سے قبل شیخ عظمت سعید نیب کے خصوصی پراسیکیوٹر تھے۔

اپنی ذمہ داری سے قطع نظر ان کے دور میں ہی نیب نے براڈشیٹ معاہدہ کیا تھا، جس سے پاکستان کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ جب کہ وہ اس پاناما بینچ کا بھی حصہ تھے جس نے نوازشریف کو بطور وزیراعظم ہمیشہ کے لیے نااہل قرار دیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ن لیگ رہنمائوں نے ان کے انکوائری کمیشن کے چیئرمین بننے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلے کو مسترد کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…