جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

پیپلز پارٹی اور (ن)لیگ کے درمیان الزامات کا سلسلہ تیز لاوا پھٹ کر باہر نکل آیا

datetime 3  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی اور (ن )لیگ کے درمیان الزامات کا سلسلہ مزید تیز ہوگیا،پیپلز پارٹی نے فرحت اللہ بابر کو سینیٹ انتخابات میں شکست کا ذمہ دار ن لیگ کو قرار دیدیا۔پیپلز پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات شازیہ مری نے اپنے بیان میں کہاکہ مسلم لیگ ن کو پی پی سے معافی مانگنی چاہیے کہ پی ٹی آئی کا سینیٹر جتوانے کے لئے پی ڈی ایم

کے متفقہ امیدوار فرحت اللہ بابر کو ہروایا۔ انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن )اگر پی پی پی کے خلاف چارج شیٹ لائے گی تو ہمارے پاس بھی ن لیگ کے لئے ایک چارج شیٹ ہے، پی پی اور اے این پی، پی ڈی ایم اجلاس میں سوال کریں گے کہ اپوزیشن اتحاد کی مخصوص جماعتوں کا خفیہ اجلاس کیوں بلایا گیا؟ ۔ انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم حکومت کے خلاف اتحاد کا نام ہے، اسے اپوزیشن پارٹیوں کے خلاف استعمال کرنے کی ن لیگ کو وضاحت دینا ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ ہم پی ڈی ایم سربراہ سے سوال کریں گے کہ اپوزیشن کا اتحاد اپوزیشن پارٹیوں کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کیوں ہورہی ہے؟ ۔ انہوں نے کہاکہ پی پی سوال کرے گی کہ کس کی ایماء پر پی ٹی آئی حکومت بچانے کے لئے استعفوں پر اچانک زور دے کر لانگ مارچ کے خلاف سازش کی گئی؟ ۔ شازیہ مری نے کہاکہ اگر استعفے اتنے ضروری تھے تو ن لیگ ابھی تک اسمبلیوں میں بیٹھی کیوں ہے۔ شازیہ مری نے کہاکہ ایک طرف پی پی کے بغیر اپوزیشن اتحاد چلانے کی باتیں

کی جارہی ہیں اور دوسری جانب پی پی کے بغیر ن لیگ استعفے دینے کو تیار نہیں۔ انہوںنے کہاکہ اگر باپ کے باپ کا ہم پر ہاتھ ہوتا تو صدر آصف زرداری کے خلاف کیسز کھولنے کی باتیں نہ کی جارہی ہوتیں۔ انہوں نے کہاکہ یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دینے والے تمام سینیٹرز

آزاد حیثیت میں منتخب ہوئے، آزاد سینیٹرز کو باپ کا ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانا ن لیگ کا بچکانہ رویہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ن لیگ کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر چاہیے تھا تو وہ ایک بار بلاول بھٹو سے یہ عہدہ مانگتے، وہ خوشی سے دے دیتے۔ انہوںنے

کہاکہ پی پی پی نے سینیٹ میں اکثریتی جماعت ہونے کی حیثیت میں اپنا اپوزیشن لیڈر منتخب کرایا، یہ کوئی جرم نہیں ہے، پی پی پی نے یوسف رضا گیلانی کے نام پر اتفاق کے لئے ن لیگ کی قیادت سے رابطہ بھی کیا جسکا اعتراف اسحاق ڈار نے کیا ۔ انہوں نے کہاکہ رانا ثنااللہ پی پی سے معافی کا مطالبہ کرنے کے بجائے پنجاب سے پی ٹی آئی سے مل کر بلامقابلہ سینیٹر منتخب کرانے کی معافی مانگیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…